مصنف : فہیم :: بتاریخ 30 Jun 2009
غصہ تقریباً ہر انسان کو آتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ اس کا اظہار کردیتے ہیں تو کچھ لوگ نہیں کرتے۔
جبکہ کچھ لوگ عام طور پر تو غصے کا اظہار نہیں کرتے لیکن جہاں ضرورت ہو وہاں ضرور اظہار کرتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں میرے ساتھ بھی پیش آیا۔
ہوا کچھ یوں کہ میرے پاس لگے PTCLکے DSLکنیکشن نے تھوڑے پنگے کرنے شروع کردیئے تھے۔ چلتے چلتے موڈیم ہینگ کرجاتا اور بار بار اسے ری اسٹارٹ کرنا پڑتا۔
جب اس نے یہ حرکتیں بہت زیادہ کرنا شروع کیں تو میں نے سوچا کہ اب جاکر اس موڈیم کو PTCL کے آفس سے تبدیل کرالینا چاہیے۔ جو کہ میرے آفس سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔
اس مقصد کے لیے پہلے میں نے وہاں کال کی تو بتایا گیا کہ آپ یہاں آکر کمرہ نمبر 1سے موڈیم تبدیل کراسکتے ہیں۔
پھر جب ہمارا وہاں جانا ہوا تو کمرہ نمبر 1 ڈھونڈنے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
وہاں موجود نوجوان جو کہ عمر میں میرے سے ایک ۔دو سال بڑے ہی ہونگے کو ہم نے اپنی آ مد کا مقصد بتایا۔ انہوں نے ہمارا موڈیم لیا اور کمرے کے ایک کونے میں لگے کارٹنز کے ڈھیر سے موڈیم کا ایک ڈبہ نکالا اور اس میں موجود موڈیم کو اپنے پاس چیک کیا لیکن وہ موڈیم تو شاید ہمارے موڈیم سے بھی گیا گزرا تھا کہ چل کر ہی نہیں دیا۔
پھر دوسرے ڈبے سے موڈیم نکالا گیا ۔ وہ بھی اپنی حالت سے استعمال شدہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کو جب چیک کیا گیا تو وہ چل پڑا۔
اس نوجوان نے وہ موڈیم مجھے تمھا دیا۔
میں جو موڈیم لے کر گیا تھا وہ SHIROکا تھا اور اس نے مجھے جو دیا وہ بھی SHIRO کا ہی تھا۔ میرے دل میں تھی کہ اب یہ موڈیم نہ ملے اس کی جگہ کوئی دوسرا مل جائے۔
میں نے کہا کہ کیا HUAWEIکا موڈیم نہیں مل سکتا۔
تو اس پر اس نے انہیں کہا کہ وہ سارے موڈیم خراب پڑے ہیں اشارہ انہیں کارٹنز کی جانب تھا جن میں سے ہمیں موڈیم عنایت کیا گیا تھا۔
میں نے کہا کہ لیکن آپ نے تو یہ موڈیم بھی مجھے یہیں سے نکال کر دیا ہے۔
تو اس پر اس شخص نے بڑے بیہودہ قسم کے لہجے میں کہا۔
۔تجھے بول دیا نہ کہ HUAWEIکے موڈیم نہیں ہیں۔
یہ سن کر تو ہمارے سر سے لگی اور پیروں میں جاکر بجھی 
میں نے وہیں فل غصے میں کہا کہ یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا؟
کسٹمر سے بات کرنے کی تمیز نہیں کیا؟
غرض کے اردو اور انگریزی دونوں میں اس شخص کو بھرپور غصے میں باتیں سنائیں۔ کہ اس کا آفیسر بھی آموجود ہوا۔
اس کے سامنے بھی میں غصے میں دھاڑتا رہا۔
بات واقعی غلط تھی کہ ایک شخص کو جب اس طرح کی کوئی سیٹ دی جاتی ہے کہ جہاں پبلک ڈیلنگ کرنی ہو تو وہاں اس طرح غیر مہذب انداز اپنانا کہیں سے بھی درست نہیں۔
حتٰی کے اگر کسمڑ کچھ غلط بھی بول رہا ہے تو آپ اس سے اس لہجے میں بات نہیں کرسکتے۔
جبکہ وہاں تومیں نے کوئی بھی غلط بات نہیں کی تھی جس پر اس شخص سے وہ بیہودہ قسم کا لہجہ اپنایا۔
خیر ہمیں اتنا کچھ بولنے کہ بعد بھی SHIROکا ہی موڈیم لے کرآنا پڑا، کیونکہ HUAWEIکے موڈیم واقعی خراب تھے
باہر آکر میں نے یہی سوچا کہ اگر یہاں میں غصے کا اظہار نہیں کرتا تو یہ غلط ہوتا اور میں نے درست جگہ اور موقعے پر غصے کا اظہار کیا
زمرہ : آپ بیتیاں | 11 تبصرے »
مصنف : فہیم :: بتاریخ 10 May 2009
زمرہ : آپ بیتیاں | 19 تبصرے »
مصنف : فہیم :: بتاریخ 26 Apr 2009
پرانی یادیں اکثر یاد آتی ہیں۔ خاص کر اگر ان کا تعلق آپ کے بچپن سے ہو تو پھر تو وہ وقت اکثر اوقات شدت سے یاد آتا ہے۔
آج میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
میں اپنے دوست کو ملنے آج اعظم نگر چلا گیا۔
اعظم نگر لیاقت آباد کا ایک کافی پرانا محلہ ہے۔
ویسے تو میں اکثر اوقات وہاں جاتا رہتا ہوں۔ لیکن آج میں جب وہاں گیا تو معلوم ہوا کہ میرا دوست جس کا نام بھی فہیم ہے وہ موجود نہیں ہے وہ صاحب نیو کراچی اپنے کسی رشتے دار کے یہاں گئے ہوئے تھے۔
پتہ نہیں کیا سوچ کر میرے قدم اعظم نگر کے اس حصے کی طرف اٹھ گئے جہاں کبھی میرا بچپن گزرا تھا۔ جہا ں میں ہوش سنبھالا تھا۔ جہاں سے میں نے اسکول جانا شروع کیا تھا۔
ویسے صحیح معنوں میں بچپن تو اسی جگہ گزرا ہے جہاں میرے دوست کا گھر ہے۔ اسی جگہ میری نانی کا گھر بھی ہے۔
اور کھیل گود بھی یہیں ہوتی تھی۔
لیکن رہائش اُسی طرف تھی۔ جہاں کا میں نے ذکر کیا۔
اس علاقے کی طرف میرا کافی عرصے بعد جانا ہوا تھا۔
میں چلتا رہا۔
سب سے پہلے میرا گزر اپنے اس گھر کے سامنے سے ہوا جہاں میں نے ہوش سنبھالا تھا۔
اُس وقت اس کا دروازہ زمین سے کافی اونچا ہوا کرتھا ۔ لیکن اب وہ زمین کے ساتھ پہنچ چکا تھا۔
وہیں مجھے وہ آنٹی بھی کھڑی دکھائی دیں۔ جو بچپن میں میری سائیکل چھین کر رکھ لیا کرتی تھیں اور میری گیندیں بھی چھپا دیا کرتی تھیں۔
حیرت کی بات یہ کہ وہ ابھی ویسی ہی لگیں جیسے برسوں پہلے تھیں۔ میں نے ان کی طرف سرسری طور پر دیکھا اور آگے بڑھ گیا۔
پتہ نہیں کیوں میرے حلق سے آواز ہی نہیں نکلی کہ میں ان کو سلام کرتا اور بتاتا کہ میں کون ہوں۔
یہ تو مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے نہیں پہنچانی ہونگی۔
آگے بڑھا تو میرا گزر اس گھر کے سامنے سے ہوا جو کبھی مدرسہ تھا۔ اور جہاں میں نے الف بے کا سپارہ پڑھا تھا۔ وہاں پڑھانے والے بزرگ جن کا انتقال ہوئے کافی عرصہ ہوگیا ہے۔ ایک لحمے کو وہ بھی یاد آئے۔
کافی سخت مزاج تھے پڑھانے کے معاملے میں۔ نام تو پتہ نہیں ان کا کیا تھا۔ بچے بڑے سب ان کو “نانا” کہتے تھے۔
ان سے ہی میں نے اپنی بسم اللہ پڑھی تھی۔
آگے بڑھا تو وہ جگہ آئی جہاں میرے بچپن میں بڑا نل ہوا کرتا تھا۔ لوگ وہاں سے پانی وغیرہ بھرا کرتے تھے۔ اور ہم بچے وہاں کبھی کبھی نیکر پہن کے نہانے جاتے تھے۔
وہ جگہ اسی زمانے میں کچھ عرصے بعد ایک واٹر پمپنگ اسٹیشن میں بدل گئی تھی۔ وہاں پانی کے پمپ وغیرہ لگادیے گئے تھے۔
اور آگے بڑھا تو وہ گھر آیا جہاں کبھی الصمد کوچنگ سینٹر تھا۔
“الصمد کوچنگ” سینٹر میں میں اپنے بچپن میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ٹیوشن پڑھنے جاتا تھا۔
وہاں پڑھانے والے سر ایاز، سر آفتاب ، مس فاطمہ(شاید یہی نام تھا) اور وہاں کی میڈم کے چہرے آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔
لیکن عرصہ ہوا کہ وہ کوچنگ سینٹر بھی ختم ہوچکا ہے۔
وہاں سے آگے بڑھ کر میں اپنے اسکول تک آیا۔
جو میرا پہلا اسکول تھا۔
جہاں میں نے پہلی ، دوسری اور تیسری جماعت پڑھی تھیں۔ پھر ہم سرجانی ٹاؤن چلے گئے تھے۔
جب میں اس اسکو ل میں لگا تو ا س کے یونیفارم میں پیلی شلوار قمیض اور کرمج کے سفید جوتوں پر مشتمل تھا۔ جو میر ے داخلے کے تھوڑے عرصے بعد ہی خاکی پینٹ اور سفید شرٹ میں تبدیل ہوگیا تھا۔
ویسے تو میرا اس اسکول کے سامنے سے کافی بار گزر ہوا ہے۔ لیکن کبھی دل میں خیال نہیں آیا کہ اس کو غور سے دیکھوں یہ سوچوں کہ یہ میرا پہلا اسکول تھا۔
لیکن آج چونکہ معاملہ ہی الگ تھا آج میں نے اس کو غور سے دیکھا اس کی حالت دیکھ کر مجھے افسوس بھی ہوا میرے زمانے میں یہ کافی بہتر حالت میں تھا۔
میں کچھ دیر اس اسکول کے سامنے رکا اور کچھ سوچ کر جیب سے موبائل نکالا اور اس کی تصاویر لیں۔
اور پھر وہیں سے واپس اپنے گھر کی جانب پیش قدمی شروع کردی۔
یہ اس اسکول کا مین گیٹ

یہ اس اسکول کا نام اور حالت

اسکول کی عمارت کا ایک اور منظر

زمرہ : آپ بیتیاں | 14 تبصرے »
مصنف : فہیم :: بتاریخ 05 Apr 2009
رات کے 4 بجے سے زیادہ کا وقت ہوچکا ہے.
لیکن میں ابھی تک سونے نہیں لیٹ سکا.
ایک وجہ تو یہی کہ صبح چونکہ چھٹی ہے اس لیے دیر سے سونے میں بھی کوئی حرج نہیں.
دوسری وجہ یہ بھی کہ ابھی نیند نہیں آرہی. لیکن نیند کیوں نہیں آرہی اس کے پیچھے جو وجہ ہے وہ کچھ اسطرح ہے کہ.
میرا کمرہ بمعہ کمپیوٹر اور بستر کے بالکل گلی کے ساتھ ہے.
اور ہمارے دروازے کے بالکل ہی پاس آج ایک مایوں / مہندی کی تقریب ہے.
تو اس خوشی میں فنکشن کیا جارہا ہے.
اور اتنی تیز آواز میں ڈیگ بجایا جارہا ہے کہ کھڑکی بند کرنے کے بعد بھی آنے والی آواز میں سونا ناممکن نہیں تو بے حد دشوار ضرور ہے.
بولو بولو سری جامبو، ہر ایک گانے کے بعد اسی کا نمبر آجاتا ہے پھر سے ساتھ میں فائر نہ کیے جائیں تو شاید یہ گانا مکمل نہ ہو
ارے یہ کیا یہ پوسٹ لکھتے لکھتے ہی باہر سکون چھاگیا 
یعنی کے اب میں سونے کی تیاری پکڑ سکتا ہوں.
لیں جی میں تو چلا.
شب بخیر…
زمرہ : متفرقات | 16 تبصرے »
مصنف : فہیم :: بتاریخ 04 Apr 2009
دماغ کچھ ایسا گھن چکر بنا ہوا ہے کہ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ بات کہاں سے اور کیسے شروع کی جائے۔
اور اس گھن چکر کی کچھ وجہ تو کراچی میں جاری بجلی کا بحران ہے۔ لیکن زیادہ وجہ جو ہے اس کا نام ہے ۔ “BARCODE” آپ میں سے اکثر دوست اس کے متعلق جانتے ہونگے۔ کہ یہ باہر کے ممالک میں کسی بھی چیز کی بطور قمیت استعمال میں لایا جاتا ہے۔
اس پر لیز اسکینر کے ذریعے شعاعیں ڈال کر مطلوبہ قمیت معلوم کرلی جاتی ہے۔
پرنٹنگ لائن سے تعلق ہونے کی بناء پر مجھے اکثر اوقات بارکوڈ ز بنانے پڑتے ہیں جو کہ زیادہ تر پرائز اسٹکرز اور پرائز ٹیگ وغیرہ کے لیے ہوتے ہیں۔
آج کل انہیں بارکوڈز کے ساتھ جنگ جاری ہے۔
وہ بھی اس طرح کہ ایک آرڈر اس آرڈر کے مختلف اسٹائل نمبرز ہر نمبر کے ساتھ کوئی 3 سے 5 کلرز اور ہر کلر کے ساتھ 6 سائز اور ہر سائز کے لیے الگ بارکوڈ۔
اس طرح کئی عدد آرڈر میرے سر پڑے ہیں۔
جن میں ملا ملو کر بارکوڈز کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ گئی ہے۔
صبح آفس جاکر جو ان کو بنانے میں لگتا ہوں تو رات گئے تک بناتا ہی رہتا ہوں۔
اور اصل مزہ تو تب آئے گا جب پرنٹنگ کے لیے ان کے لے آؤٹ سیٹ کیے جائیں گے اور اس وقت گھن چکر بننے کی باری باس کی ہوگی
زمرہ : آپ بیتیاں | 7 تبصرے »
مصنف : فہیم :: بتاریخ 24 Mar 2009
جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے! اوہ سوری جیسا کہ آپ لوگوں کو نہیں معلوم کہ بروز پیر 23 مارچ کو کراچی کے اردو بلاگرز کی ایک میٹنگ تھی۔ جس کی میزبانی کے فرائض جناب محمد علی مکی صاحب جو کہ کسی تعارف کے محتاج نہیں اور حال ہی میں سعودیہ سے کراچی نازل ہوئے ہیں۔ کے سپرد تھے۔
تو جناب اس میٹنگ کا ایک انویٹیشن خاکسار کو بھی موصول ہوا کہ شرکت فرماکر ثوابِ دارین تو نہیں البتہ اردو کی خدمت کا موقع حاصل کیجئے
۔
میٹنگ کا وقت شام 5 بجے اور مقام کھانے پینے کے لحاظ سے کراچی کی مشہور جگہ برنس روڈ مقرر ہوئی تھی۔
یہ بھی بتاتا چلوں کہ فی الوقت یہ ایک بے قائدہ میٹنگ تھی نہ کہ باقاعدہ، باقاعدہ میٹنگ میں انشاءاللہ جلد ہوگی جس میں کراچی کے تمام اردو بلاگرز اور اردو محفل کے ممبران کو انوائٹ کرنے کا پروگرام ہے۔
اس میٹنگ میں شرکت کے لیے جن لوگوں کے ناموں کا چناؤ ہوا تھا۔ ان میں محمد علی مکی صاحب کے علاوہ جناب فہد صاحب المعروف ابوشامل، شعیب صفدر صاحب، عمار ابن ضیاء صاحب، م م مغل صاحب، علمدار صاحب اور یہ بندہ شامل تھے۔
ان میں سے م م مغل اور علمدار صاحب اپنی مصروفیات کی بناء پر اس میٹنگ میں شرکت نہ کرسکے۔
خیر مطلوبہ وقت سے تھوڑی ہیر پھیر کے بعد میٹنگ شروع ہوئی۔
اور یہ میٹنگ اردو بلاگنگ اور اردو کے حوالے سے کافی مثبت رہی۔
میرے لیے تو یہی اعزاز کی بات کہ محمد علی مکی جیسی شخصیت سے ملاقات ہوگئی۔
جن کے بارے میں میرا خیال تھا کہ کوئی بہت معزز یعنی کے بزرگوار ٹائپ کی شخصیت ہونگے
۔
لیکن جب ان کو دیکھا تو پہلے پہل یقین ہی نہیں آیا کہ یہ مکی صاحب ہیں۔
گو کہ عمار مجھے پہلے ہی ان کے متعلق بتاچکا تھا کہ وہ کوئی معزز شخصیت نہیں! ارے ارے برا نہیں مانیے معزز یعنی کے بزرگوار شخصیت نہیں ہیں
۔
لیکن پھر بھی وہ میری توقع سے زیادہ جوان بلکہ نوجوان نکلے۔
وہ اور بات ہے کہ اپنی معلومات اور تجربے کے لحاظ سے وہ واقعی ایک معزز شخصیت ہیں
۔
تو دوستوں یہ بے قاعدہ میٹنگ بھی کافی باقاعدہ ثابت ہوئی۔ اور اس میٹنگ میں اردو کی ترقی کے لیے جن چیزوں پر روشنی ڈالی گئی۔
جو کہ لوڈ شیڈنگ کے آڑے آجانے کے بعد مکی بھائی اپنی موبائل ٹارچ سے ڈالتے رہے۔
ان میں۔
اردو کا مشترکہ موضوعاتی بلاگ
اردو سی ڈی ریلیز
اور ایک بلاگر ایک کتاب کافی اہم رہے۔
مکی بھائی نے تو باقاعدہ لسٹ ترتیب دی کہ کون کس کتاب پر کام کررہا ہے نشاندہی کرے۔
اور پھر عمار کو حکم دیا گیا کہ وہ جاکر اسے منظر نامہ پر ایڈ کرے۔
اس کے علاوہ اس ملاقات میں اردو سے ہٹ کر بھی کافی لمبی چھوڑی بحث نما باتیں ہوئیں۔
جن کے بارے میں ہمیں یہ کہا گیا کہ یہ سب سنسر کرنا ہے۔
یہ لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں
۔
اس لیے میں بھی لکھنے میں کافی ڈنڈی مار رہا ہوں اور اس پوسٹ کو سکھیڑنے میں لگا ہوں تاکہ جلد از جلد پوسٹ کردوں۔
ساتھ میں وہاں وکیل صاحب یعنی شعیب بھائی نے تصویروں کی فرمائش بھی کی کہ تصویریں ہونا چاہیے اور ہم نے اپنا موبائل کیمرہ بھی سنبھال لیا تھا۔ لیکن پھر اس پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔
اور ہم نے نہایت شرافت کا ثبوت دیتے ہوئے اس پابندی کو قبول کرلیا۔
اس میٹنگ کا دورانیہ کوئی ساڑھے تین سے چار گھنٹے رہا۔
جس کے درمیان ہم نے پہلے دودھ پتی چائے اور بعد میں اپنی پسندیدہ کولڈرنک یعنی ماؤنٹین ڈیو سے بھی شغل کیا۔ مکی صاحب نے ساتھ میں کوئی 5 یا 6 سگریٹوں سے بھی لب کشائی کی
۔
اور میٹنگ کے اختتام پر ہم نے اور شعیب صفدر صاحب نے ایک ایک عدد میٹھی گلوری سے بھی شوق فرمایا۔
اور پھر سب واپس اپنے اپنے گھروں کو لوٹے۔
چونکہ اس میٹنگ میں تصاویر نہیں لی جاسکیں اس لیے میں لوگوں کے حلیوں سے متعلق کچھ عرض کرتا چلو۔
سب سے پہلی اہم بات آج عمار صاحب پینٹ شرٹ میں ملبوس نظر آئے، اور حیرت کی بات یہ کہ ان کے سر پر موجود مجنوں نما بال بھی آج کافی چھوٹے ہوئے نظر آئے جن کو انہوں نے سائیڈ مانگ نکال کر سیٹ کیا ہوا تھا۔
اس حلیے پر ابو شامل صاحب کا کمنٹ یہ تھا کہ اب بچہ چونکہ جامعہ کراچی جانے لگا ہے اس لیے اب اس حلیے میں نظر آرہا ہے
۔
لیکن پتہ نہیں یہ بندہ شیو کیوں بڑھا کر رکھتا ہے۔
وہ بھی ایسی کہ اس کو انسان داڑھی میں تو شمار نہیں کرسکتا بلکہ یہی کہہ سکتا ہے کہ کوئی 4 - 5 دن کا بڑھا ہوا شیو۔
ابو شامل صاحب نے حسب عادت ڈریس پینٹ اور شرٹ زیب تن کررکھی تھی۔
مکی صاحب بھی ڈریس پینٹ اور شرٹ میں ملبوس تھے۔
شعیب صفدر صاحب 23 مارچ کے موقعے پر پاکستانی بن کر آئے ہوئے تھے اور شلوار سوٹ کے ساتھ باقاعدہ واسکٹ بھی چڑھا رکھی تھی۔
اور ہم بلو جینز کے ساتھ ہلکے اورنج کلر کی شرٹ پہن کر گئے تھے۔
بس اب اس بے قاعدہ میٹنگ کا حال ختم کرنا چاہوں گا۔
ویسے اس پوسٹ کو 23 مارچ کی تاریخ میں ہی ہونا چاہیے تھا۔
لیکن گھر پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی لوڈ شیڈنگ سے سامنا ہوجانے کے باعث یہ پوسٹ آج کی تاریخ میں پوسٹ کی جارہی ہے۔
زمرہ : آپ بیتیاں | 32 تبصرے »
مصنف : فہیم :: بتاریخ 17 Mar 2009
ملک میں ایک جشن سا سما طاری ہے۔
ٹی وی ہو یا اخبار ہر جگہ مبارک باد اور خوشیوں کے انبار نظر آتے ہیں۔
موبائل ہو یا انٹرنیٹ ہر جگہ سے مبارک باد کے میسج مل رہے ہیں۔
اور یہ سب کس خوشی میں ہورہا ہے ظاہر ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب اپنے عہدے پر بحال کردیے گئے ہیں۔ ملک میں ایک بار پھر آزاد عدلیہ کا دور شروع ہوگیا ہے۔
یقیناً یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے جس کے لیے قوم نجانے کب سے انتظار میں تھی کہ یہ خوشخبری کب ملے گی۔
لیکن اس خوشخبری کو لے کر چند ایک وسوسے جو دماغ میں آئے وہ یہاں ضرور بیان کرنا چاہوں گا۔
کیا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب بحالی کے بعد 12 مئی کو جو کچھ کراچی میں ہوا اس نظر انداز کردیں گے؟
اگر وہ اس پر کوئی ایکشن لیتے ہیں تو اس کے کراچی پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟
ظاہر ہے اس سارے کام میں جو نام سب سے پہلے دماغ میں آتا ہے وہ ہے “ایم کیو ایم” اگر ایم کیو ایم کے خلاف کوئی کاروائی کی جاتی ہے تو ظاہر ہے اس سے پہلے ہی اسے حکومت سے علیحدہ کردیا جائے گا۔ اور اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔
اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا پھر کراچی میں وہی حالات واپس پلٹ آئیں گے۔
جب روز ایم کیو ایم اور پولیس کی جھڑپیں ہوا کرتیں تھیں۔
جب کراچی میں خون پانی کی طرح بہا ہے۔
جب کراچی کا امن نجانے کہاں گھوگیا تھا۔
جب دوسرے شہرو الے کراچی کے نام سے ہی الرجک تھے ۔
بس اب اور کیا کیا لکھوں۔ اپنی بات کا ماحاصل تو آپ پر واضح کرچکا ہونگا۔
اور آخر میں یہ بات بھی واضح کرتا چلو ں کہ اس پوسٹ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ میں کوئی سیاسی کارکن ہوں یا میرا کسی پارٹی سے کوئی تعلق ہے۔
اور یہ جو باتیں میں نے لکھیں ان کا مطلب کسی کے خلاف کچھ لکھنا نہیں بلکہ یہ صرف دماغی وسوسے تھے جو ۢمیں نے یہاں لکھ ڈالے۔
اللہ نہ کرے کہ ایسا کچھ بھی کہیں ہو۔
پاکستان صدا شاد و آباد رہے۔ آمین
زمرہ : کراچی | 9 تبصرے »
مصنف : فہیم :: بتاریخ 04 Mar 2009
بات اگر کراچی کی لوکل پبلک ٹرانسپورٹ کی کی جائے تو سب سے پہلے لوگوں کے ذہن میں جو نام آتا ہے وہ ہے کراچی کی مشہور زمانہ منی بس W-11 جو کے میرا نہیں خیال نہ صرف کراچی والوں بلکہ دوسرے شہروں بلکہ ملکوں کے لوگوں کے لیے بھی انجانی ہوگی۔
لیکن یہاں ہم جس کی بات کرنے جارہے ہیں۔ وہ W-11 نہیں۔
ہم بات کرنے لگے ہیں کراچی کی سڑکوں پر آندھی اور طوفان کی طرح دوڑتی بس، 7C کی، اگر آپ کا کبھی کراچی آنا ہو اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کا اتفاق ہوتو اس بس میں چڑھنے سے پہلے کم از کم ایک بار ضرور سوچیے گا کہ آپ کیا کرنے جارہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ چڑھ تو جائیں اور اترنا آپ کو 2 اسٹاپ آگے جاکر پڑے
7C میں زیادہ تر ڈرائیور اور کنڈیکٹر ہمارے مکرانی اور بلوچ بھائی ہیں۔ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے گدھا گاڑی چلاتے تھے اور ان کو چلانے کو اچانک بس دے دی گئی۔ جس کو یہ جہاز سمجھ کر چلاتے ہیں 
اس کے اتنظار میں کھڑےلوگ پہلے سے ہی تیار کھڑے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو چلتی ہوئی گاڑی میں ہی جمناسٹک کے کرتب دکھاتے ہوئے سوار ہونا پڑے گا۔
اور اترنے کا تو پوچھیں مت، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو جس جگہ اترنا ہے آپ وہاں نہ اتر پائیں بلکہ اس سے کافی آگے جاکر آپ اس خطرناک بس سے آزادی پاسکیں۔ خطرناک یوں بھی کہ روڈ ایکسیڈنٹ کرنے میں بھی یہ بس کافی بدنام ہے۔
کچھ اسٹاپ تو ایسے ہیں جو 7C کے لیے اسٹاپ نہیں۔
وہاں کھڑے ہو کر آپ بھلے اس میں بیٹھنے کے لیے ہاتھ کا اشارہ دیں۔ یا اترنے کے لیے دروازہ پیٹیں۔ 7C نے نہیں رکنا۔ بلکہ چیختے چنگھاڑتے بس بھاگتے ہی رہنا ہے۔
اور اگر کبھی دو 7C آپس میں ٹکر جائیں، تو پھر تو شاید صرف بند ہوا سگنل ہی ان کو روکنے کا باعث بنتا ہے۔ پھر نہ اس کو پسنجرز کی پرواہ رہتی ہے نہ خیال۔
مزے کی بات تو یہ کہ ان کے کنڈیکٹر ز سے بھی لوگ پنگاہ لیتے شاید تھوڑے ہچکچاتے ہیں۔ دوسری مزے کی بات یہ کہ دوسری بسوں اور منی بسوں سے لوگوں کو یہ پریشانی اور شکایت ہوتی ہے کہ وہ بلا وجہ ہی جگہ جگہ روک کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور چلاتے بھی کافی سستی کے ساتھ ہیں۔ جبکہ 7C کے ساتھ معاملہ الٹ ہے۔
اگر آپ نے کہیں جانا ہو خاص کر صبح کے وقت اور آپ کو بہت جلدی ہو اور اگر وہ 7C کا روڈ پڑتا ہو! تو آپ رکشہ یا ٹیکسی کے بجائے 7C کو آزمائیں۔ کیونکہ آزمائش شرط ہے
زمرہ : کراچی | 13 تبصرے »
مصنف : فہیم :: بتاریخ 28 Feb 2009
کچھ دن پہلے بیٹھے بیٹھے ایک بات دماغ میں گھسی، پہلے تو اس پر زیادہ غور نہیں کیا۔ لیکن جب تھوڑی توجہ دی تو معلوم ہوا کہ اگر ایسا ہوجائے تو کیا ہی بات ہو۔
ملک پاکستان کی کل آبادی کی شرح کوئی پندرہ کروڑ بتائی جاتی ہے۔ جس میں سے اگر بہت ہی زیادہ غریب طبقے کو آدھی آبادی شمار کرتے ہوئے نکالا جائے تو باقی آدھی ساڑھے سات کروڑ باقی بچتی ہے۔
اس میں سے بھی اگر کچھ کمی کی جائے ، ڈیڑھ کروڑ اور علیحدہ کردیے جائیں تو باقی چھ کروڑ رہ گئی۔
اب اگر ان چھ کروڑ میں سے ہر شخص چاہے مرد ہو یا عورت بچے ہو یا بوڑھا۔ روزانہ اپنی طرف سے 1 روپیہ روز کا حکومت کے خزانے میں جمع کرائے۔
تو روز کے ہوگئے چھ کروڑ یعنی مہینے کہ ایک ارب اسی کروڑ اور سال کے 21600000000 اکیس ارب ساٹھ کروڑ روپے پاکستان کے خرانے میں آئیں۔
اور اس پیسے کو اگر صحیح طریقے سے یوٹیلائز کیا جائے تو پاکستان کچھ سالوں میں ہی کہاں سے کہاں پہنچ جائے۔
لیکن ایسا تبھی ہی ممکن ہے جب ملک کو ایماندار لوگ میسر آئیں۔ جو اپنے کسی بھی مفاد کو ایک طرف کرتے ہوئے پہلے ملک کے مفاد پر نظر رکھیں ۔ یہاں کی عوام کی مشکلات پر نظر رکھیں۔
اور جومیں نے کہا وہ کوئی ناممکن بات نہیں۔
ایک روپیہ تو میں نے کم سے کم کی انتہا پر کہا ہے۔
ورنہ چھ کروڑ میں سے ہر شخص روز اپنی حیثیت کے مطابق جتنا اس کی جیب پر بھاری نہ پڑے دے تو سالوں میں کیا مہینوں میں ہی اتنی رقم اکھٹی ہو کہ پاکستان کو کسی قرضے کی ضرورت نہ رہے۔
لیکن افسوس وہی کہ ایماندار لوگ کہاں سے لائیں
زمرہ : متفرقات | 14 تبصرے »
مصنف : فہیم :: بتاریخ 24 Feb 2009
یہ ناول کسی زمانے میں ماہنامہ نئے افق میں شائع ہوتا تھا۔ بعد میں کتابی شکل میں پیش کیا گیا۔
میں نے یہ ناول پہلی بار کوئی 7 سال پہلے پڑھا تھا اور جب سے اب تک کوئی 5 سے 6 بار پڑھ چکا ہوں۔
اور چاہتا ہوں کہ اس کا لکھا بھول جاؤں تاکہ جب پڑھوں تو اس ناول کو پڑھنے کا اور مزہ آسکے۔ یاد رہ جانے کی وجہ سے وہ لطف نہیں آپاتا پہلی مرتبہ پڑھنے میں آیا تھا 
اس ناول کے بارے میں مزید کچھ بتانے سے پہلے یہ بتاتا چلو کہ اس ناول کے مصنف شکیل صدیقی صاحب نے اس کے پیشرس میں لکھا تھا۔ کہ یہ ناول لکھنے سے پہلے ان کے سامنے کئی آئیڈیاز پیش کیے گئے۔ کیونکہ معاملہ نئے افق میں کوئی طویل سلسلہ شروع کرنے کا تھا۔
ان کے خیال میں کوئی ایسا ناول جس کا ہیرو جوڈو کراٹے اور دوسرے لڑائی بھڑائی کے فنوں کا ماہر ہو او رخوامخوہ لوگوں کے سر چٹخاتا پھرے لکھنا بہتر نہیں تھا۔ کیونکہ پہلے بھی کافی ایسے ناول لکھے جاچکے تھے۔
دوسرا موضوع منشیات کا تھا۔ لیکن وہ بھی پرانا ہوچکا تھا۔
اس لیے کسی نئے اور اچھوتے خیال کے لیے سب اپنے دماغ دوڑارہے تھے۔ کہ انہوں نے یہ آئیڈیا پیش کیاکہ کیوں نہ کوئی ایسا ناول لکھا جائے جس میں زیادہ مار دھاڑ تو دور پستول کی ٹھو ٹھا بھی نہ ہو۔ جس کو جب قاری پڑھے تو اس کو کو زبان پر بتاشے گھلتے محسوس ہوں۔ اور دماغ بالکل ہلکا رہے۔
اس خیال کو سب بے پسند کیا اور اس طرح یہ ناول پہلے ماہنامہ نئے افق میں قسط وار شائع ہوا اور پھر بعد میں کتابی شکل میں پیش کیا گیا۔
اور یہ بات میں بالکل مانتا ہوں کہ یہ ناول واقعی ایسا ہے کہ پڑھنا شروع کرو تو ختم کیے بغیر کتاب رکھنے کو دل نہ کرے۔
پہلی مرتبہ پڑھنے پر تو ہنس ہنس کر میرا برا حال ہوگیا تھا
حاضر غائب کہانی ہے ایک ایسے نوجوان کی جو پڑھا لکھا ہونے کے ساتھ ساتھ تھوڑا تجرباتی بھی ہوتا ہے۔
یعنی جس کو کیمیا سے لگاؤ ہوتا ہے اور وہ نت نئے تجربے کرنے کی کوششوں میں لگارہتا ہے۔ ماں باپ دنیا سے رخصت ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ دنیا میں اکیلا ہوتا ہے۔
گزر بسر کے لیے سرکاری نوکری کرتا ہے۔ اور تجربات کرنے کے لیے ردی والوں کے ٹھیلوں پر پرانی کتابیں تلاش کرتا رہتا ہے۔
کبھی کوئی بہادری کی دوا ایجاد کرتا ہے تو کبھی بزدلی کی۔
یہ دوائیں بھی اس بچارے کو کافی مصیبتوں میں مبتلا کرتی رہتی ہیں۔
اسی طرح اس کے ہاتھ ایک پرانے زمانے کی کتاب لگ جاتی ہے ۔ جس میں اس کو نظروں سے پوشیدہ ہونے کا نسخہ مل جاتا ہے۔
لیکن افسوس کے اس کے آگے کے صفحات موجود نہیں ہوتے۔ اور وہ کتاب بھی کافی قدیم ہوتی ہے۔
لیکن وہ پھر اسی جنون میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
اور دوائے غیاب کو بناہی لیتا ہے۔
لیکن اس دوا کو لے کر اس کے ساتھ کیا کیا گل کھلتے ہیں وہ پڑھنے کے قابل ہیں۔
جب وہ غائب ہونا چاہتا ہے تو حاضر ہوجاتا ہے۔ اور جب حاضر ہونا چاہتا ہے تو غائب۔
اسی حاضر غائب کے چکر میں پڑ کر نجانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔
ساتھ میں اس کو ایک پہلوان کی بہن سے محبت ہوجاتی ہے۔
لیکن وہ پہلوان کی بہن اس کو گھاس نہیں ڈالتی البتہ وہ پہلوان اس کو بری طرح دھو ڈالتا ہے
بس کیا کیا لکھوں
انسپکٹر سلطان کا لکھوں یا مرزا دہشت بیگ کا یا پھر مسکرائیل کا۔
ہر کردار ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔
اگر تو آپ کو مطالعے کا شوق ہے اور آپ نے یہ ناول نہیں پڑھا تو سمجھیں کہ آپ نے کوئی مزاح کا ناول ہی نہیں پڑھا۔
ایک بار اس کو پڑھیں اور پھر سار ے مزاح کے ناول آپ کو اس کے آگے اچھے نہ لگیں گے۔
زمرہ : کتابیں | 17 تبصرے »