ہمارے کولیگ
نئی جاب، نیا آفس، نیا ماحول اور سب سے بڑھ کر نئے لوگ،
ان لوگوں میں ایسی ایسی شخصیات کہ میرے لیے فیصلہ مشکل ہوگیا کہ کس شخصیت کے ساتھ اپنے بلاگ پر کچھ شرارت کی جائے
آخر کار میں نے اس نازیبا حرکت کے لیے ایک شخصیت منتخب کرہی لی 
سر پر کچھ کالے اور کچھ سفید بال جن پر شاید خضاب کا استعمال بھی بو وقت ضرور کیا جاتا ہے۔ اور یہی حال کچھ چہرے پر موجود ہلکی ڈاڑھی کا بھی ہے۔
کوئی 5 فٹ کے اریب قریب کا قد، سانولی رنگت، عمر کوئی 40 سے 50 کے درمیان(یہ میرا اندازہ ہے)
ایسی شخصیت کو دیکھ کر پہلے تو یہی خیال آتا ہے کہ یہ بزرگوار ضرور سنجیدہ شخصیت کے مالک ہونگے۔
لیکن یہ تاثر صرف اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک وہ خاموش رہیں اور یہ الگ بات ہے کہ وہ کبھی خاموش رہتے نہیں 
ویسے تو خود ہم بھی اس نئے ماحول میں اس بات کو لے کر بدنام ہیں کہ ہم ضرورت سے زیادہ بلکہ بہت زیادہ بولتے ہیں۔
لیکن ہمارا یہ خیال ہے کہ ان بزرگوار جن کو سب عنایت صاحب کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں کہ مقابلے ہم کچھ نہیں۔
ہم جب زیادہ بولتے ہیں تو رک کر دوسرے کی بھی سنتے ہیں ، سمجھتے ہیں اور دوسروں کو بولنے کا بھی بھرپور موقع دیتے ہیں۔
لیکن عنایت صاحب ایسی کسی عنایت کے قائل معلوم نہیں ہوتے۔ ان کا فلسفہ ہے کہ بس سنو اور ان کی سنو 
ساتھ میں اگر واہ واہ یا ہاں ہاں کیے جاؤ تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن تنقید یا سوال کی اجازت فی الحال نہیں ہوتی۔
موصوف شاید رقص و موسیقی کے بھی دلدادہ ہیں کہ کوئی گانا بجتا سن لیں تو دو چار ٹھمکے تو لگا ہی جاتے ہیں۔
جب ہم نے پہلی بار ان کو اس طرح کرتے دیکھا تو مارے حیرت کہ ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا اور پھر اس ڈر سے کہ منہ میں مکھی نہ چلی جائے بند ہوا تھا۔
لیکن موصوف میں یہ کوالٹی ضرور ہے کہ اپنے کام کے معمالے میں ایکسپرٹ بندے ہیں اور جہاں وہ پہلے کام کرتے تھے وہ ایک کافی بڑی اور انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کمپنی تھی۔
تو وہاں ان کا مقابلہ اپنے کام کو لے کر انٹرنیشنل سطح پر تھا۔ وہاں تو پھر بھی مقابلہ تھا۔ لیکن کام سے ہٹ کر باتوں میں تو کوئی بھی ان کا مدِ مقابل معلوم نہیں ہوتا۔
محترم کے انداز بھی کافی نرالے ہیں ان میں کچھ بلکہ کچھ زیادہ ہی نسوانہ پن نمایاں ہوتا ہے۔ بس “اوئی ماں اور ہائے” جیسے الفاظوں کی کمی رہ جاتی ہے 
ساتھ میں جناب خواتین کی طرح روٹھ بھی جاتے ہیں اور یہ اکثر ایسے مواقع پر ہوتا ہے جب ان کی کسی بات سے کوئی اختلاف کیا جائے۔
لکھنے کو تو عنایت صاحب پر مزید بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن اتنی زیادہ زیادتی ہم کو درست معلوم نہیں ہوتی۔
بس یہ سمجھ لیجئے کہ ان کی شخصیت مسخرانہ سے لے کر متنازعہ اہمیت تک کی حامل ہے۔
لیکن ہمارے بلکہ سب کے لیے ایک قسم کی تفریح میسر ضرور ہے
فیس بک نیٹ ورک بلاگ
ہماری کم علمی کہیں یا جو کچھ بھی کہ ہمیں ابھی تک سمجھ نہیں آیا تھا کہ فیس بک کے نیٹ ورک بلاگ پر اپنا بلاگ ایڈ کرنے کے باوجود بھی ہمارے بلاگ کی پوسٹس وہاں کیوں نہیں دکھائی دیتیں 
پھر جاکر معلوم ہوا جب تک 10 افراد کی گواہی شامل نہیں ہوگی یہ رشتہ مطلب معمالہ طے نہیں پاسکتا.
پھر جب جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ 9 افراد کی گواہی تو پہلے ہی شامل ہوچکی ہے اور صرف ایک افراد کو لے کر یہ سب پنگا ہے.
پھر کیا تھا ہم نے اس ایک بندے یا بندی کی خاطر اپنے سب چاہنے والوں کو ہی گواہی دینے کا درخواست نامہ ارسال کردیا.
اور آج صبح دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہماری دو درخواستوں پر لبیک کہا جاچکا ہے.
اس طرح اب ہمارے گواہوں کی تعداد 11 ہوچکی ہے
اور اس پوسٹ کر کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کہ دیکھا جائے کہ اب فیس بک پر یہ پوسٹ بنا کچھ پنگے کیے دکھائی دیتی ہے کہ نہیں
ایم ایس این کا پرانا ورژن استعمال کریں.
جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہوگا کہ ونڈوز لائیو میسنجر کا نیا ورژن آنے کے بعد پرانا ورژن قابلِ استعمال نہیں رہا۔
پرانے ورژن سے لاگ ان ہونے کی کوشش کی جائے تو یہ میسج منہ چڑارہا ہوتا ہے 

رہا نیا ورژن تو یہ دیکھنےمیں تو کافی خوبصورت اور دیدہ زیب معلوم ہوتا ہے ۔ لیکن جب اسے استعمال کیا جائے تو یہ اتنا مزیدار نہیں ہے۔
ساتھ میں اس میں کچھ خرابیاں بھی ہیں۔
لیکن مرتا کیا نہیں کرتا والی بنیاد پر مجھے اسے ہی استعمال کرنا پڑا۔ اور میرے کچھ دوستوں کو جن کے پاس یہ انسٹال نہیں ہوا پایا۔ انہیں گلی میسنجر ، ای بڈی اور میبو وغیرہ کا سہارا لینا پڑا۔
جو کہ کسی طرح بھی م س ن کے اچھے متبادل نہیں ہیں۔
میں نے اس سلسلے میں تھوڑی مغز ماری کی تو ایک طریقہ معلوم ہوگیا کہ کس طرح آپ لوگ ابھی بھی اپنے کمپیوٹر پر م س ن کا پرانا ورژن استعمال کرسکتے ہیں۔
پہلے تو یہ طریقہ خود آزمایا اور جب اسے کامیاب پایا تو خیال آیا کہ اسے لکھ مارنا چاہیے تاکہ میرے ساتھ ساتھ اوروں کا بھی بھلا ہوسکے۔
تو جناب طریقہ کچھ یوں ہے۔
کہ اگر تو آپ کے کمپیوٹر میں ابھی ونڈوز لائیو کا نیا ورژن انسٹال ہے تو پہلے اسے مکمل طور پر کمپیوٹر سے نکال باہر کریں۔
اس کام کے لیے آپ ZapMessenger کا استعمال کریں یہ آپکے کمپیوٹر سے مکمل طور پر اس بیکار ورژن کو باہر دھکیل دے گا۔
اس کے بعد م س ن کا پرانا ورژن انسٹال کریں جو کہ آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کرسکتے ہیں.
اسے ڈاؤنلوڈ ماریں اور پھر انسٹال ماردیں.
لیکن لاگ ان ہونے کی کوشش نہ کریں.
بلکہ پہلے ایک مزید اور آخری چیز Resource Hacker ڈاؤنلوڈ کریں.
ڈریں نہیں یہ آپ کے کمپیوٹر کو ہیک نہیں کرے گا ![]()
اسے ڈاؤنلوڈ کرنے کے بعد ان زپ کریں اور اس کی اپلیکیشن فائل کو رن کریں.
اور کھلنے والی ونڈو میں فائل مینو میں جاکر Open سیلیکٹ کریں.
اور C:\Program Files\MSN Messenger\msnmsgr.exe کے پاتھ کو فالو کرکے میسنجر کی ایگزی کو اس میں اوپن کریں.
اور دکھائی گئی تصویر کے مطابق
Version Info/1 کو نیچے گرائیں اور 1033 پر کلک کریں.
اب دکھائے گئے طریقے کے عین مطابق آپ 8.0.0812 کو 14.0.8089.0726 سے تبدیل کردیں.
اس کے بعد Compile Script کے بٹن پر کلک کریں اور فائل مینو میں جاکر Save پر کلک کردیں.
اور اس پروگرام کو بند کردیں.

اب آپ اس پرانے ورژن کے ساتھ لاگ ان ہونے کی کوشش کریں.
آپ کی یہ کوشش انشاءاللہ کامیاب ثابت ہوگی
دوستی
دو دوست ہوتے ہیں.
بلکہ تین دوست ہوتے ہیں.
تینوں کی آپس میں کافی اچھی، پرانی اور گہری دوستی ہوتی ہے.
تینوں جب بھی ملتے ہیں ہنسی مذاق میں ہی بات کرتے ہیں اور خوش رہتے ہیں.
خوشی سے ملتے ہیں اور خوشی سے رخصت ہوجاتے ہیں.
پھر ایک روز ایسا ہوتا ہے کہ ایک دوست کچھ مصروف ہوتا ہے. باقی دو دوست بات کررہے ہوتے ہیں.
اسی دوران ان میں سے ایک دوست چلاجاتا ہے اور اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی مصروف دوست فارغ ہوکر آجاتا ہے.
تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلا دوست تو اللہ حافظ کہہ کر جاچکا ہے.
پھر وہ آنے والا دوست اس سے باتوں میں لگ جاتا ہے.
تو پہلے سے موجود دوست کہتا ہے کہ مجھے دو لوگوں نے بہت پریشان کررکھاہے.
اس پر وہ دوست جو کام نپٹا کر آیا ہوتا ہے شوخ سے انداز میں کہتا ہے کہ ہاں مجھے بھی دو لوگوں نے پریشان کررکھا ہے.
اس کا اشارہ اس بات میں اپنے ہی دونوں دوستوں کی جانب ہوتا ہے.
لیکن پہلا دوست شاید کچھ ذہنی کشمکش میں ہوتا ہے اور اس کی بات کو سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کن کی بات کررہا ہے.
جب بولنے والا دوست اسے سمجھاتا ہے کہ وہ کس کے متعلق بات کررہا تھا تو وہ دوست کچھ غصہ ہوجاتا ہے کہ کیا ہر وقت تم مذاق میں ہی لگے رہتے ہو. دوسرے کا موڈ بھی دیکھا کرو ضروری نہیں کے میرے دماغ میں ہر وقت تم دونوں ہی ہو. جو میں فوراً سمجھ جاؤں کہ تم کن کی بات کررہے ہو.
اس بات پر بولنے والے دوست کو بھی احساس ہوجاتا ہے کہ ہاں بات ٹھیک ہے. وہ مسکرا کر کہتا ہے کہ اچھا دوست کوئی بات نہیں برا نہیں مانوں میں آئندہ یہی کوشش کروں گا کہ تم غصہ نہ ہو 
لیکن پہلے دوست کا موڈ پھر بھی تھوڑا خراب خراب سا رہتا ہے 
پر وہ دوست رخصت ہونے سے پہلے اسے مناہی لیتا ہے کہ چلو اب ٹھیک ہوجاؤ اور اس کو مناکر ہی رخصت ہوتا ہے.
چونکہ ان کی دوستی کافی پرانی ہوتی ہے اس لیے اسے معلوم ہوتا ہےکہ اس کے دوست کا دل اب پوری طرح صاف ہوچکا ہے اور کل وہ جب ملے گا تو یہ تمام باتیں اس کے دماغ میں نہیں ہونگی.
دوسرے روز جب ان کی ملاقات ہوتی ہے تو اتفاق سے وہی دونوں موجود ہوتے ہیں. ان کا تیسرا دوست موجود نہیں ہوتا.
سلام دعا اور رسمی گفتگو کے بعد 1 دن پہلے ناراض ہونے والا دوست کہتا ہے کہ ہمارا تیسرا دوست آج دعوت پر گیا ہے.
اس پر اس کا دوست مذاق میں اس دوست کا نام لے کر کہتا ہے کہ کون وہ؟
اور پھر ایک دم ہی کہتا ہے اچھا وہ اپنا دوست، کہاں گیا ہے تم کو کیسے بتایا.
لیکن شاید ناراض ہونے والے دوست کے دل میں کل کی بات باقی ہوتی ہے اور وہ اس تمام گفتگو میں صرف وہی جملہ پوائنٹ آؤٹ کرلیتا ہے کہ “کون وہ” اور باقی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیتا. اور اس کا موڈ خراب ہوجاتا ہے.
بولنے والا دوست کہتا ہے کہ کیا ہوا کیا پھر ناراض ہوگئے اور مسکرا کر اور تھوڑے سے مزاح کے ساتھ اس کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے.
لیکن ناراض ہونے والے دوست کے دماغ میں یہی بات ہوتی ہے کہ اس دوست نے جان بوجھ کر اس دوست سے انجانی ظاہر کی کیوں کہ کل اس نے یہ کہا تھا کے دماغ میں صرف تم لوگ ہی نہیں رہتے. اس لیے آج وہ بھی ایسا ہی ثابت کرنا چاہ رہا ہے.
بولنے والا دوست اس کو ہر طرح سے یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ بھئی میں نے تو صرف عادت کے مطابق مذاق میں یہ بات کہی اور اگر میرا مقصد یہ بات جتلانا ہوتا تو میں اس جملے “وہ کون” کے بعد مزید کچھ نہیں کہتا. لیکن میں نے تو فوراً کہا کہ اچھا وہ اپنا دوست تو پھر تم ایسا کیوں سمجھ رہے ہو 
ہماری اتنی پرانی بات چیت ہے تم میرے مزاج کو سمجھتے ہو پھر بھی تم ایسا سوچ رہے ہو.
لیکن اس دوست کی کچھ سمجھ نہیں آتا اور اس کا موڈ خراب ہی رہتا ہے.
اس پر بولنے والے دوست کا موڈ بھی خراب ہوجاتا ہے.
اور وہ کہتا ہے کہ اتنی پرانی بات چیت میں ایسا ہو تو اچھا نہیں.
اب انسان پرانے دوستوں سے تو فریلی ہی بات کرتاہے.
کیا اب میں ایک ایک لفظ سوچ کر بولوں کے کس پر تمہارا موڈ خراب ہوسکتا ہے.
لیکن وہ ناراض دوست بس اسی بات پر اڑا رہتا ہے اور اس کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ تم نے وہ جملہ “وہ کون” جتلانے کو کہا.
.
.
.
.
.
.
.
اب بھلا دونوں میں سے کون سا دوست صحیح ہوا
بارش اور ایڈونچر
جس دن کا یہ قصہ ہے ہم نے یہ پوسٹ اسی دن لکھی تھی.
لیکن افسوس کہ اس دن ہمارا بلکہ اردو ٹیک کے تمام بلاگ بند پڑے تھے ![]()
اس لیے یہ پوسٹ اسی روز نہ ہوسکی تو اب کیے دے رہے ہیں.
————————————————————————————————-
بروزِ پیر 31 اگست 2009
بارش نے جب زور پکڑنا شروع کیا تو تبھی مجھے خدشہ لاحق ہوا تھا کہ کہیں گھر جانے میں کسی قسم کی دقت کا سامانہ نہ کرنا پڑ جائے۔
لیکن آج سے پہلے چونکہ تیز سے تیز بارش میں بھی گھر جانے میں کبھی کوئی خاص پرابلم نہیں ہوئی تھی اس لیے اس وقت بھی کوئی خیال نہیں کیا۔
لیکن مجھے یہ خیال ضرور کرنا چاہیے تھا کہ پہلے ناظم آباد سے صرف لیاقت آباد تک جانا ہوتا تھا۔
جبکہ اب ناظم آباد سے نارتھ کراچی تک کا سفر کرنا ہے۔
ایک خیال یہ بھی تھا کہ ابھی بارش تیز ہے جیسے ہی رکے گی گھر کی راہ لی جائے گی۔
اور جب تک نہیں رکتی تب تک اس کے برسنے کے منظر سے لطف اندوز ہوا جائے۔ اور میں لطف اندوز ہونے میں مصروف رہا 
لیکن بارش رک کر نہ دی البتہ تھوڑی ہلکی ضرور ہوگئی۔
اندازہ ہورہا تھا کہ بارش ابھی مزید برستی رہے گی اس لیے سوچا کہ یہی وقت بہتر ہے کہ بھاگ لیا جائے۔
اپنی بائیک(جس کو لیے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا)کے پلگ اور سوئچ پر ساتھ کام کرنے والے ایک لڑکے سے ڈھیر سارا گریس لگوایا اور یہ سوچتے ہوئے کہ آج پہلی بار بارش میں اتنا لمبا سفر بائیک پر کرنے کا لطف لیتے ہوئے گھر چلا جائے۔
کک لگائی اور گاڑی کو لے کر آگے بڑھے۔
بس یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
ابھی بائیک روڈ تک ہی پہنچی تھی کہ بھک بھک کرکے بند ![]()
ایک بار سوچا کہ ابھی زیادہ دور نہیں آنا ہوا کیوں نہ بائیک کو واپس آفس کی طرف چھوڑ کر کسی اور ذریعے سے گھر کا سفر کیا جائے۔ لیکن پھر وہی ایڈونچر دماغ پر چھاگیا
اس لیے بائیک کو واپس موڑا اور گھسیٹے ہوئے واپسی اسی راستے پر ہولیا۔ لیکن آفس جانے کے لیے نہیں بلکہ اس مکینک تک جانے کے لے جس تک جانے کے لیے یہی راستہ استعمال کرنا تھا۔
جس وقت مکینک تک پہنچا اس وقت عصر کی نماز کا وقت ہوچلا تھا۔
لیکن اس تھوڑے سے ہی سفر میں حلیہ کچھ ایسا ہوگیا تھا کہ نماز پڑھنے کا یہی سوچا جاسکتا تھا کہ گھر جاکر پڑھ لوں گا۔
اس مکینک کچھ انتظار کرایا پھر پلگ کی صفائی کی اور بائیک اسٹارٹ کرنے کو کہا۔ ہم نے کوشش تو کی لیکن وہ سسری اسٹارٹ ہوکر نہ دی۔
پھوڑی تھوڑی جدو جہد کے بعد معلوم پڑا کہ اس میں پیٹرول کی کمی بھی واقعی ہوئی وی ہے۔
خیر پھر اسی گھسیٹنے کا کام شروع کیا اور کچھ دور جاکر جہاں کے زمین دکھائی دے رہی تھی بائیک کو بچھاڑ دیا۔
ورنہ مکینک کے آگے تو پانی کا ایک بڑا تالاب بنا تھا اور وہاں بائیک کو بچھاڑ دینے کا رسک نہیں لیا جاسکتا تھا۔
آخر ہماری یہ محنت رنگ لائی اور بائیک اسٹارٹ ہوگئی۔
ہم پھر پانی اڑاتے روڈ پر آئے اور پیٹرول پمپ پر پہنچ بائیک میں موجود کمی کو پورا کیا۔
اور کک لگا کر خوشی خوشی اپنے گھر کی جانب سفر شروع کیا۔
اس وقت بارش کافی ہلکی پڑ رہی تھی اور بائیک چلانے کا الگ ہی لطف آرہا تھا۔ ٹریفک بھی کوئی بہت زیادہ نظر نہیں آرہا تھا۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔
جونہی ہم بورڈ آفس کراس کرکے کے ڈی اے چورنگی تک آئے تو ساری خوشی رخصت ہوگئی۔
وہاں تو لگتا تھا سیلاب آیا ہوا ہے 
ہماری بائیک انجن اور سائیلنسر سمیت پانی کے اندر تھی۔
ہم نے سوچا کہ قبل اس کے بائیک بند ہو اس کو خود ہی بند کردینا چاہیے۔
اب اسے ہماری عقل مندی کہیں یا عقل بندی کے ہم نے بائیک بند کی اور اس کو چند شریف لوگوں کی مدد سے فٹ پاتھ پر چڑھایا جہاں پہلے ہی بائیکوں کا ایک کارواں رواں تھا۔
لیکن وہ بائیکز اپنے سواروں کا بوجھ نہیں اٹھائے ہوئے تھیں بلکہ سوار ہی ان کا بوجھ گھسیٹنے میں مصروف تھے۔
خود ہماری حالت بھی ایسی ہی تھی۔
ہم بھی اس کارواں میں شامل چلتے رہے۔
حیدری مارکیٹ سے آگے اور 5 اسٹار چورنگی سے پہلے موجود موڑ سے ہم نے دوسروں کی تلقین کرتے ہوئے بائیک کو دوسرے روڈ پر لیا۔
جہاں کے پانی سیلابی شکل میں موجود نہیں تھا۔
وہاں پہنچ کر کارواں میں شامل تمام لوگ اپنی اپنی امیدوں یعنی بائیکوں کو اسٹارٹ کرنے کی جدو جہد میں مصروف تھے۔
کوئی اس میں کامیاب ہوکر خوشی کی قلقاریا ں مارتے ہوئے آگے بڑھتا جارہا تھا تو کوئی بچارہ پاؤں کو تکلیف دینے میں ہی مصروف تھا اور کوئی انجن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ میں۔
ہمارا شمار شاید ان لوگوں میں ہونا تھا جن کو فی الوقت کامیابی نہیں ملنی تھی 
ہم تھوڑا سسپٹائے کہ یہ کیا ہوا۔
اچھی بھلی خود آپ سے بند کی تھی اب اسٹارٹ کیوں نہیں ہوکر دے رہی۔
یہاں وہاں نظریں دوڑائیں۔
سامنے کی طرف ایک درخت کے نیچے کچھ بائیکز کھڑی دکھائی دیں۔
اور یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہاں ایک عدد مکینک موجود ہے جو کہ نوٹ چھاپنے میں مصروف ہے۔
ہم نے بھی ناچار ادھر کا رخ کیا۔
جاکر مدعا بیان کیا تو آگے سے ناپسند آنے والے انداز میں جواب ملا کہ انتظار فرمائیں۔
مرتا کیا نہ کرتا ۔
انتظار ہی کرنا پڑا۔ آخر ایک اچھا خاصہ وقت گزارنے کے بعد ہمارا نمبر آیا۔
اور ایک بار پھر پلگ کی صفائی ہوئی انجن میں گھس جانے والا پانی اڑایا گیا۔
اور بائیک اسٹارٹ ہوئی۔
اس دس یا بیس روپے والے کا م کی اجرت اُس وقت 50 روپے طلب کی گئی۔
ہم نے رقم ادا کرکے وقت پر نظر دوڑائی تو کوئی ساڑھے 7 کے اریب قریب کا وقت تھا۔
ہم نے سوچا چلو اب گھر کی راہ لی جائے اگر پہنچ گئے تو ٹھیک ورنہ روزہ تو کہیں راستے میں بھی کھولا جاسکتا ہے۔
وہاں سے ہم رونگ سائیڈ ہی 5 اسٹار تک آئے اور پھر دوسرے روڈ پر نظر ڈالی تو وہاں سیلابی شکل والا پانی موجود نہیں تھا۔
ہم نے ٹریفک قوانین پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بائیک اسی روڈ پر ڈالی اور اس کو اڑانا شروع کیا۔
ساتھ میں دل بھی دہل رہا تھا کہ اللہ نہ کرے کوئی حادثہ ہوجائے 
بائیک دوڑاتے دوڑاتے ہم سخی حسن چورنگی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ناگن تک آئے۔
لیکن یہاں پچھلے کے مقابلے زیادہ بڑا سیلابی ریلا موجود تھا۔
دیکھا کہ بائیک والے حضرات اپنی بائیکوں کو فٹ پاتھ پر چڑھا کر سیلابی ریلے کے سائیڈ سے نکل رہے ہیں ہم نے بھی یہی کیا۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ کہ فٹ پاتھ تو ختم ہونے کے قریب آرہی تھی لیکن سیلابی ریلا کافی دور تک دکھائی دے رہا تھا۔
اور آگے جاکر تو فٹ پاتھ بھی پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اس لیے معلوم ہی نہیں تھا کہ کہاں فٹ پاتھ ختم ہے 
جب دیکھا کہ اس سے آگے اسی طرح بڑھنا نقصان دہ ہوسکتا ہےتو ہم نے بائیک آہستہ کی لیکن اسے بند کرنے کا رسک نہیں لیا۔
اور قدم فٹ پاتھ پر رکھ کر آہستہ آہستہ آگے ہوتے گئے۔
اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک اگلا پہیا نیچے ہوا۔
ہم نے اس ڈر سے کہ بائیک بند نہ ہوا کلچ دبا کر پورا ایکسیلیڑ دے دیا۔
لیکن اس کے باوجود بھی وہ فوراً ہی بند ہوگئی
یہاں پانی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ بائیک کو آگے لے جانے کے لیے کافی قوت سے گھسیٹنا پڑ رہا تھا۔
صبح ہی موسم کو دیکھتے ہوئے ہم پیروں میں بجائے جوتوں کے چائنہ چپل پہن گئے تھے۔
یہاں پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے پاؤں اٹھا اٹھا کر آگے کرنے پڑرہے تھے۔
مطلب کہ پانی سے باہر نکال کر۔ اسی میں ایسا ہوا کہ ایک چپل ہی پیر سے نکل کر پانی میں بہہ پڑی۔
بوکھلائے ہوئے انداز میں اپنے ہاتھوں کے بوجھ کو اسی کی ایک ٹانگ پر ڈالا اور دوڑ کر اپنی چپل پر قبضہ کیا 
آگے ایسے حادثے سے بچنے کے لیے دونوں چپلوں کو اتار کر ٹنگی پر موجو د بیلٹ میں ٹھونسا اور پھر پیا پادہ چل پڑے۔
حلیہ کچھ ایسا ہوچکا تھا جینز پانی پی پی کر اپنے وزن کی تین گناہ معلوم ہورہی تھی۔
اللہ شکر یہ کہ نظر ابھی ایسی نہیں کہ چشمے کے بغیر گزارہ نہ ہو۔ ورنہ چشمہ لگا کر تو ہم مزید اندھے ہوئے جارہے تھے۔ اس لیے وہ چشمہ ہمارے گلے میں کسی پنڈال کی طرح لٹک رہا تھا۔
ہمیں سب سے زیادہ فکر روزے کی تھی کہ موسم سے اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ کیا وقت ہوا ہے
موبائل نکال کر ٹائم دیکھا تو معلوم ہوا کہ روزہ کھلنے میں بس کچھ ہی وقت باقی رہا جاتا ہے۔
لیکن فی الوقت ہمارے پاس صرف ایک کام تھاکہ بائیک کو گھسیٹے جائیں۔
سو بس گھسیٹے رہے۔
جب دیکھا کہ اب پانی کافی حد تک کم ہوا چلا ہے تو اس پر بیٹھ کر دونوں ٹانگوں سے اس کو دوڑاتے رہے۔
ناگن اور یوپی کے درمیان کی جگہ تھی اور ہمیں ایک سناٹا سا چھایا محسوس ہورہا تھا۔
ہم کوشش کررہے تھے کہ کچھ ایسا نظر آئے کہ ہم روزہ افطار کرسکیں۔
لیکن وہاں تو لگ رہا تھا کہ جیسے سناٹا سا ہی ہو۔
لیکن یوپی کے قریب پہنچ کر۔ ہمیں کچھ رونق نظر آئی۔
وہاں ہم نے ایک صاحب سے پوچھا کیا افطار کا وقت ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہاں وقت ہوگیا اور اپنا ہاتھ ہماری طرف بڑھایا جس پر بڑے انگور کے کچھ دانے موجود تھے۔
ہم نے ایک عدد دانہ اٹھایا اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ افطار کیا۔
اور دماغی طور پر پرسکون ہوگئے۔تھوڑا سا آگے چل کر بائیک روکی کہ ہم خود ہی کچھ مینا کاری کرکے دیکھیں کہ بائیک اسٹارٹ ہوجائے۔
لیکن قبل اس کے ہم کچھ کرتے وہاں کھڑے ایک بائیک والے بھائی صاحب نے بڑی محبت سے ہمیں کہا کہ آئیں میں”ٹو”کردوں۔
ڈوبتے کو تنکے کا سہار ابہت۔
ہم نے ان کی یہ آفر بخوشی قبول کرلی۔
اور ہم بڑے مزے سے اپنی بائیک چلاتے رہے۔
لیکن پاور ہاؤس کی چورنگی تک آتے ہمارا ان سے تعلق ختم ہوچکا تھا۔
اور ایک بار پھر بائیک کے ساتھ زور آزمائی کا دور شروع ہوچکا تھا۔
لیکن شکر کہ یہ زور آزمائی زیادہ دیر جاری نہیں رہی۔ اور 5 سی 4 پر یہ ہمیں بائیک مکینکوں کی دکانیں کھلی نظر آگئیں 
پھر زیادہ خاص بات نہیں بس کچھ دیر کے انتظار کے بعد ہماری بائیک اسٹارٹ ہوگئی۔
اور ہم نے گھر کی راہ لی اور بنا کسی نئے حادثے کے گھر پہنچ گئے۔
ویسے اس سفر کی خاص بات یہ کہ!
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ خود مجھے ہلکی سی خراش بھی نہیں آئی۔
نہ پاؤں میں کچھ چھپا نہ کہیں کہنی سے رگڑ کھائی۔
اور نہ گھر پہنچ کر مجھے تھکاوٹ محسوس ہوئی۔
اور نہ راستے میں ہی کہیں ہمت نے جواب دیا کہ پیاس لگنے لگی ہو یا روزہ محسوس ہونا شروع ہوگیا ہو۔
شاید یہ سب رمضان کی برکت تھی کہ گھر پہنچ کر بھی میں پوری طرح چاق و چوبند رہا نہ ہاتھ میں کہیں درد ہوا نہ پیروں میں اور میں نے بالکل سکون سے بیٹھ کر یہ پوسٹ لکھی.
اردو بلاگنگ… ہفتہ بلاگستان
دماغ کچھ ایسا گھن بنا ہوا تھا کہ میں بھول چکا تھا کہ میرا ایک عدد بلاگ بھی ہے جہاں میں کبھی کبھار کچھ لکھ مارتا ہوں۔
اور تو اور یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ ایک عدد ہفتہ بلاگستان منایا جارہا ہے ![]()
خیر سے یہ شُب خبر بذریعہ شَب چند دن پہلے ہی ہمارے گوش گزار ہوئی۔
ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ ہم بھی ہفتہ بلاگستان کو لیتے ہوئے چند صفحات سیاہ کرڈالیں۔
ہم نے تھوڑے ٹال مٹول سے کام لینا چاہا کہ اب کہا ں لکھیں اب تو مہینہ بھر گزر گیا اور پچھلے تمام ہفتے گزر گئے 
اب کیا ہم بھی ہفتہ رسوئی گھر پر لکھ ماریں 
تو کہا گیا نہیں کہ شروع سے لکھوں
اس پر ہم راضی نہ ہوسکے البتہ یہ ضرور کہا کہ اگر دماغ میں کچھ آیا تو لکھ ماریں گے۔
تو اب تک جو جو ہفتے منائے جاچکے ہیں ان میں ہمیں بلاگ کے بارے میں لکھنے والا ہفتہ ہی سمجھائی دیا کہ اس پر ہی تھوڑا بہت لکھ مارتے ہیں۔
تو دوستوں اور بزرگوں سچ پوچھیں تو مجھے ابھی تک ٹھیک سے بلاگنگ کی معلومات نہیں ۔
بس تجربے کرتا رہتا ہوں۔ یہ نہیں معلوم کہ بلاگ سیٹ کیسے کیا جاتا ہے۔ اور اس کو خوب سے خوب تر کیسے بنایا جاتا ہے
مجھے بلاگنگ کی دنیا میں لے کر آنا والا عمار تھا۔
جو کہ بلاگنگ کے معاملے میں کچھ ایسا جنونی تھا کہ اس نے نہایت ہی کم عرصے میں نہ صرف بلاگنگ کی دنیا میں نام پیدا کیا بلکہ بلاگ کے حوالے سے اور بھی بہت سی باتیں سیکھیں اور ایسی سیکھیں کہ اب دوسروں کو سیکھاتا ہے۔
میرا یہ بلاگ بھی موصوف نے ہی بناکردیا اور کہا کہ میں بس لکھوں۔
ہم نے بھی پہلے تو کچھ عرصے اکا دکا بے تکی سی پوسٹس ماریں اور پھر بلاگ کو بھول گئے۔
دوبارہ بلاگنگ کا شوق گوگل والوں کے بلاگر میٹ اپ میں شرکت کے بعد جاگا۔
جب بلاگر میٹ اپ میں شرکت کی تو اسی عرصے میں میری بات چیت شب سے ہوئی۔
ورنہ اس سے پہلے اردو محفل کا رکن ہوتے ہوئے بھی میری ان سے بات چیت نہیں تھی۔
ان سے بات چیت ہوئی اور معلوم ہوا کہ موصوفہ بھی بلاگر ہیں۔
ان سے کچھ عرصہ بات چیت کے بعد میں نے ایویں ہی آئیڈیا دیا کہ کیوں نہ ایک خفیہ بلاگ بنالیا جائے۔
لیکن اس وقت یہ بالکل دماغ میں نہیں تھا کہ اس خفیہ بلاگ کا نام کیا ہوگا اور اس پر لکھا کیا جائے گا ۔
بس ایویں ہی ایک بات کہہ دی تھی۔
اور پھر اسے ہمارا شوق کہیں کہ کچھ نہ آتے ہوئے بھی ہم نے نہ صرف بلاگ بناڈالا بلکہ اچھے خاصے لوگو ں کو بھی تپا ڈالا 
مزے کی بات یہ کہ لوگوں نے سوچ کے بڑے گھوڑے دوڑائے کہ یہ بندہ یا بندی کون ہوسکتا ہے لیکن درست نتیجہ کوئی نہ نکال پایا۔
ہماری طرف کسی کا خیال جاہی نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ بقول عمار ہمیں بلاگنگ کا کچھ پتہ ہی نہیں تھا اور یہ ہمارے بس کا کام نہیں تھا۔
لیکن ہم نے نہ صرف اس کو بس میں کیا بلکہ لوگوں کی بے بسی سے لطف اندوز بھی ہوئے
خیر اب وہ بات پرانی ہوچلی ہے اور وہ بلاگ اب بالکل سے ختم کردیا ہے۔
رہاں میرا یہ بلاگ۔
تو یہاں بھی بس ہم کبھی کبھار کچھ لکھ مارتے ہیں۔
کوئی مخصوص موضوع نہیں منتخب کیا ہوا۔
سیاست پر لکھنا ہمیں پسند نہیں تبھی نہیں لکھتے۔
پاکستا ن میں رہتے ہوئے اس کی برائیاں کرنا بھی پسند نہیں کرتے اس لیے اپنے معاشرے پر کچھ لکھنے سے گریز کرتے ہیں۔
کوئی درد بھری داستان بھی پاس نہیں کہ اسی پر لکھتے رہیں اور لوگوں کو بور کرتے رہیں۔
ہوتا یہی ہے کہ کبھی کچھ دماغ میں سما گیا تو لکھ مارا۔
جیسے کہ ابھی یہ پوسٹ لکھی۔
ہوووووو
مشن کمپلیٹ
کہانی ایک گھر کی


اس مکان کو دیکھئے۔ اس کی حالت دیکھ کر آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے؟
ویسے یہ مکان نہ کسی زلزے کے نتیجے میں ایسا ہوا نہ کسی دھماکے کے نتیجے میں۔
بلکہ اس مکان کی کہانی کچھ یوں ہے ۔
کچھ عرصہ گزرا یہاں ایک مکان ہوا کرتا تھا۔ جس پر تقریباً روز ہی آفس جاتے ہوئے نگاہ پڑ جاتی تھی کیونکہ یہ ہمارے آفس جانے کے راستے میں ہی واقع تھا۔
پھر ایک دن ہم نے دیکھا کہ اس مکان کی توڑا پھوڑی کی جارہی ہے۔
جس کو ہم نے کافی دنوں تک ہوتے دیکھا ۔ کبھی مزدور لوگ ہتھوڑا لیے چھت توڑنے میں مصروف ہوتے تو کبھی دیواریں۔
آخر کچھ عرصہ بعد جاکر وہاں صرف ایک خالی پلاٹ رہ گیا۔
اور پھر اس خالی پلا ٹ کی کھدائی کرکے اس نئے مکان کی بیناد ڈالی گئی۔
پھر کافی عرصہ تک جب بھی ہم آفس جاتے ہوئے ادھر سے گزرتے ہم کو اس مکان کی تعمیر کا کام ہوتا دکھا ئی دیتا۔
اور آخر کار وقت کے ساتھ ساتھ اس مکان کی تعمیر مکمل ہوتی گئی اور یہ مکان بن کھڑا ہوا۔
صرف پلاستر اور رنگ و روغن باقی رہ گیا۔
باقی اگر کچھ اندرونی کچھ کام رہتا ہو تو اس کا ہمیں معلوم نہیں۔
پھر ہم جب بھی گزرتے تو ہمیں یہ مکان ایسا ہی دکھائی دیتا۔ یعنی بغیر پلاستر او ررنگ و روغن کے۔ چونکہ اس مکان سے ہمارا کچھ لینا دینا تو تھا نہیں اس لیے ہم بس سرسری سی نگاہ ڈالتے ہوئے آگے بڑھے چلے جاتے۔
لیکن ایک دن جب ہمارا یہاں سے گزرنا ہوا تو دیکھا نیچے دو عدد پولیس والے کھڑے ہیں جو گزرنے والوں کو سائیڈ سے ہوکر گزرنے کی ہدایت کررہے ہیں جو کہ ہمیں بھی کی گئی۔
اور اس مکان پر کچھ مزدور چڑھے ہتھوڑوں کی مدد سے اس کی حالت بگاڑنے میں مصروف ہیں۔
جو کہ بگڑنے کے بعد کچھ ایسی ہوگئی ہے جیسی کے تصویر آپ کے سامنے موجود ہے۔
اس کے بعد سے اب تک کافی عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اب جب بھی ہم گزرتے ہیں تو یہ مکان ہمیں ایسی ہی حالت میں دکھائی دیتا ہے۔
معلوم نہیں اس مکان سے کیا خطا سرزد ہوئی جو اس کو یہ ظلم سہنا پڑا۔
یا اس کو بنانے والے نے ہی کچھ قانونی لغزش کرڈالی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک مکان جو محنت و وقت لگا کر تیار ہوا۔
اس کا کچھ ہی وقت میں یہ حال جا ہوا۔
غصے کا اظہار
غصہ تقریباً ہر انسان کو آتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ اس کا اظہار کردیتے ہیں تو کچھ لوگ نہیں کرتے۔
جبکہ کچھ لوگ عام طور پر تو غصے کا اظہار نہیں کرتے لیکن جہاں ضرورت ہو وہاں ضرور اظہار کرتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں میرے ساتھ بھی پیش آیا۔
ہوا کچھ یوں کہ میرے پاس لگے PTCLکے DSLکنیکشن نے تھوڑے پنگے کرنے شروع کردیئے تھے۔ چلتے چلتے موڈیم ہینگ کرجاتا اور بار بار اسے ری اسٹارٹ کرنا پڑتا۔
جب اس نے یہ حرکتیں بہت زیادہ کرنا شروع کیں تو میں نے سوچا کہ اب جاکر اس موڈیم کو PTCL کے آفس سے تبدیل کرالینا چاہیے۔ جو کہ میرے آفس سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔
اس مقصد کے لیے پہلے میں نے وہاں کال کی تو بتایا گیا کہ آپ یہاں آکر کمرہ نمبر 1سے موڈیم تبدیل کراسکتے ہیں۔
پھر جب ہمارا وہاں جانا ہوا تو کمرہ نمبر 1 ڈھونڈنے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
وہاں موجود نوجوان جو کہ عمر میں میرے سے ایک ۔دو سال بڑے ہی ہونگے کو ہم نے اپنی آ مد کا مقصد بتایا۔ انہوں نے ہمارا موڈیم لیا اور کمرے کے ایک کونے میں لگے کارٹنز کے ڈھیر سے موڈیم کا ایک ڈبہ نکالا اور اس میں موجود موڈیم کو اپنے پاس چیک کیا لیکن وہ موڈیم تو شاید ہمارے موڈیم سے بھی گیا گزرا تھا کہ چل کر ہی نہیں دیا۔
پھر دوسرے ڈبے سے موڈیم نکالا گیا ۔ وہ بھی اپنی حالت سے استعمال شدہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کو جب چیک کیا گیا تو وہ چل پڑا۔
اس نوجوان نے وہ موڈیم مجھے تمھا دیا۔
میں جو موڈیم لے کر گیا تھا وہ SHIROکا تھا اور اس نے مجھے جو دیا وہ بھی SHIRO کا ہی تھا۔ میرے دل میں تھی کہ اب یہ موڈیم نہ ملے اس کی جگہ کوئی دوسرا مل جائے۔
میں نے کہا کہ کیا HUAWEIکا موڈیم نہیں مل سکتا۔
تو اس پر اس نے انہیں کہا کہ وہ سارے موڈیم خراب پڑے ہیں اشارہ انہیں کارٹنز کی جانب تھا جن میں سے ہمیں موڈیم عنایت کیا گیا تھا۔
میں نے کہا کہ لیکن آپ نے تو یہ موڈیم بھی مجھے یہیں سے نکال کر دیا ہے۔
تو اس پر اس شخص نے بڑے بیہودہ قسم کے لہجے میں کہا۔
۔تجھے بول دیا نہ کہ HUAWEIکے موڈیم نہیں ہیں۔
یہ سن کر تو ہمارے سر سے لگی اور پیروں میں جاکر بجھی 
میں نے وہیں فل غصے میں کہا کہ یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا؟
کسٹمر سے بات کرنے کی تمیز نہیں کیا؟
غرض کے اردو اور انگریزی دونوں میں اس شخص کو بھرپور غصے میں باتیں سنائیں۔ کہ اس کا آفیسر بھی آموجود ہوا۔
اس کے سامنے بھی میں غصے میں دھاڑتا رہا۔
بات واقعی غلط تھی کہ ایک شخص کو جب اس طرح کی کوئی سیٹ دی جاتی ہے کہ جہاں پبلک ڈیلنگ کرنی ہو تو وہاں اس طرح غیر مہذب انداز اپنانا کہیں سے بھی درست نہیں۔
حتٰی کے اگر کسمڑ کچھ غلط بھی بول رہا ہے تو آپ اس سے اس لہجے میں بات نہیں کرسکتے۔
جبکہ وہاں تومیں نے کوئی بھی غلط بات نہیں کی تھی جس پر اس شخص سے وہ بیہودہ قسم کا لہجہ اپنایا۔
خیر ہمیں اتنا کچھ بولنے کہ بعد بھی SHIROکا ہی موڈیم لے کرآنا پڑا، کیونکہ HUAWEIکے موڈیم واقعی خراب تھے
باہر آکر میں نے یہی سوچا کہ اگر یہاں میں غصے کا اظہار نہیں کرتا تو یہ غلط ہوتا اور میں نے درست جگہ اور موقعے پر غصے کا اظہار کیا
جب مجھے بور کیا گیا
ابھی کچھ دیر پہلےدروازے پر دستک ہوئی اور میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو دروازے پر شاہ رخ کو کھڑے پایا۔
ارے آپ لوگ حیران نہ ہوں میں شاہ رخ خان کی بات نہیں کررہا ![]()
شاہ رخ میرا پڑوسی ہے ۔ کسی زمانے میں اس کے ساتھ دوستی بھی تھی اور اٹھنا بیٹھنا بھی۔ جو پھر میں نے اپنی مصروفیت کی وجہ سے ختم کردیا تھا۔
اس نے مجھے سے پوچھا کہ کوئی ہے تو نہیں۔
میں نے کہا نہیں۔
میرے کمرے میں اس وقت کسی اور کا کیا کام۔
تو وہ موصوف اس بات پر مزے سے اندر آکر میرے ساتھ دوسری کرسی پر براجمان ہوگئے۔
اور انہوں نے کہا کہ ان کو ایک ٹیلی نار اسمارٹ ٹون کا کوڈ درکار ہے۔
میں نے کہا کہ ٹھیک ہے دے دیتا ہوں۔
میرا خیال تھاکہ وہ یہ کوڈ لے کر چلتے بنیں گے۔
لیکن انہوں نے تو ایک کے بعد ایک کی فرمائش شروع کردی ![]()
اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے یہ مداخلت ناگوار گزرنا شروع ہوگئی۔ میں اس وقت چند ایک سے چیٹنگ میں مصروف تھا۔
جن میں شعیب صفدر صاحب بھی شامل تھے۔ وہ مجھے اپنے بلاگ کی نئی تھیم کو دیکھنے کو بول رہے تھے۔
ان سے بھی ٹھیک سے بات نہیں کرپارہا تھا.
اور نہ کسی دوسرے سے.
نہ ہی اردو محفل کو ٹھیک سے دیکھ پارہا تھا۔
اور شاہ رخ صاحب اپنی کسی دوست کو فون ملائے بیٹھے وہاں سے فرمائشیں نوٹ کرکر کے مجھے بور کرنے میں لگے تھے۔
میں نے ان کو کافی بار سمجھایا کہ بھائی ایک وقت میں تو ایک ہی ٹون سیٹ کرسکتے ہو۔ تو ایک دم ہی اتنی کیوں چاہیے تم کو۔
لیکن ان کی سمجھ نہیں آرہی تھی 
اوپر سے ان کے بات کرنے کا اسٹائل کہ ابے جلدی نکال۔ بیکار کمپیوٹر بیکار فلاں۔
یہ دراصل جو فون پر دوسری طرف تھا بلکہ تھی اس کو سنایا جارہا تھا۔
شاید دوسری طرف سے یہ پوچھاگیا کہ کون ہے جس سے بول رہے ہو نکالنے کو۔
ان صاحب نے بڑے رعب سے کہا میرا چھوٹا بھائی ہے۔
اس کے کمرے میں بیٹھا ہوں۔
کل بیٹھ کر خود نکال دوں گا۔
یعنی کے جھوٹا رعب۔ ایویں ہی کا۔
بس پھر میں نے بھی دو ایسی حرکتیں کیں کہ مزہ آگیا ![]()
ایک میں نے عطا اللہ خان صاحب کا گانا قمیض تیری کالی بجایا ![]()
اور دوسرا بلند آواز میں بولا۔
یار شاہ رخ تم بھی خوب ہو۔
پرسوں تم نادیہ سے بات کررہے تھے۔ کل مہرین سے اور آج یہ کرن۔
انہوں نے بات کرتے ہوئے یہ نام لیا تھا تبھی مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ دوسری طرف کوئی کرن محترمہ ہیں۔
اس بات پر انہوں پہلے تو اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور پھر کہا کہ یہ کسی کام کا نہیں۔
کل میں خود بیٹھ کر ڈھونڈھ دوں گا۔
اور یہ کہہ کہ وہ اٹھ کر بھاگ لیے 
اور میں نے سوچا کہ اس بات کو تو اپنے بلاگ پر لکھ مارنا چاہیے 
سو ہاتھ کہ ہاتھ یہاں لکھ ماری۔
بچپن کی کچھ یادیں۔
پرانی یادیں اکثر یاد آتی ہیں۔ خاص کر اگر ان کا تعلق آپ کے بچپن سے ہو تو پھر تو وہ وقت اکثر اوقات شدت سے یاد آتا ہے۔
آج میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
میں اپنے دوست کو ملنے آج اعظم نگر چلا گیا۔
اعظم نگر لیاقت آباد کا ایک کافی پرانا محلہ ہے۔
ویسے تو میں اکثر اوقات وہاں جاتا رہتا ہوں۔ لیکن آج میں جب وہاں گیا تو معلوم ہوا کہ میرا دوست جس کا نام بھی فہیم ہے وہ موجود نہیں ہے وہ صاحب نیو کراچی اپنے کسی رشتے دار کے یہاں گئے ہوئے تھے۔
پتہ نہیں کیا سوچ کر میرے قدم اعظم نگر کے اس حصے کی طرف اٹھ گئے جہاں کبھی میرا بچپن گزرا تھا۔ جہا ں میں ہوش سنبھالا تھا۔ جہاں سے میں نے اسکول جانا شروع کیا تھا۔
ویسے صحیح معنوں میں بچپن تو اسی جگہ گزرا ہے جہاں میرے دوست کا گھر ہے۔ اسی جگہ میری نانی کا گھر بھی ہے۔
اور کھیل گود بھی یہیں ہوتی تھی۔
لیکن رہائش اُسی طرف تھی۔ جہاں کا میں نے ذکر کیا۔
اس علاقے کی طرف میرا کافی عرصے بعد جانا ہوا تھا۔
میں چلتا رہا۔
سب سے پہلے میرا گزر اپنے اس گھر کے سامنے سے ہوا جہاں میں نے ہوش سنبھالا تھا۔
اُس وقت اس کا دروازہ زمین سے کافی اونچا ہوا کرتھا ۔ لیکن اب وہ زمین کے ساتھ پہنچ چکا تھا۔
وہیں مجھے وہ آنٹی بھی کھڑی دکھائی دیں۔ جو بچپن میں میری سائیکل چھین کر رکھ لیا کرتی تھیں اور میری گیندیں بھی چھپا دیا کرتی تھیں۔
حیرت کی بات یہ کہ وہ ابھی ویسی ہی لگیں جیسے برسوں پہلے تھیں۔ میں نے ان کی طرف سرسری طور پر دیکھا اور آگے بڑھ گیا۔
پتہ نہیں کیوں میرے حلق سے آواز ہی نہیں نکلی کہ میں ان کو سلام کرتا اور بتاتا کہ میں کون ہوں۔
یہ تو مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے نہیں پہنچانی ہونگی۔
آگے بڑھا تو میرا گزر اس گھر کے سامنے سے ہوا جو کبھی مدرسہ تھا۔ اور جہاں میں نے الف بے کا سپارہ پڑھا تھا۔ وہاں پڑھانے والے بزرگ جن کا انتقال ہوئے کافی عرصہ ہوگیا ہے۔ ایک لحمے کو وہ بھی یاد آئے۔
کافی سخت مزاج تھے پڑھانے کے معاملے میں۔ نام تو پتہ نہیں ان کا کیا تھا۔ بچے بڑے سب ان کو “نانا” کہتے تھے۔
ان سے ہی میں نے اپنی بسم اللہ پڑھی تھی۔
آگے بڑھا تو وہ جگہ آئی جہاں میرے بچپن میں بڑا نل ہوا کرتا تھا۔ لوگ وہاں سے پانی وغیرہ بھرا کرتے تھے۔ اور ہم بچے وہاں کبھی کبھی نیکر پہن کے نہانے جاتے تھے۔
وہ جگہ اسی زمانے میں کچھ عرصے بعد ایک واٹر پمپنگ اسٹیشن میں بدل گئی تھی۔ وہاں پانی کے پمپ وغیرہ لگادیے گئے تھے۔
اور آگے بڑھا تو وہ گھر آیا جہاں کبھی الصمد کوچنگ سینٹر تھا۔
“الصمد کوچنگ” سینٹر میں میں اپنے بچپن میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ٹیوشن پڑھنے جاتا تھا۔
وہاں پڑھانے والے سر ایاز، سر آفتاب ، مس فاطمہ(شاید یہی نام تھا) اور وہاں کی میڈم کے چہرے آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔
لیکن عرصہ ہوا کہ وہ کوچنگ سینٹر بھی ختم ہوچکا ہے۔
وہاں سے آگے بڑھ کر میں اپنے اسکول تک آیا۔
جو میرا پہلا اسکول تھا۔
جہاں میں نے پہلی ، دوسری اور تیسری جماعت پڑھی تھیں۔ پھر ہم سرجانی ٹاؤن چلے گئے تھے۔
جب میں اس اسکو ل میں لگا تو ا س کے یونیفارم میں پیلی شلوار قمیض اور کرمج کے سفید جوتوں پر مشتمل تھا۔ جو میر ے داخلے کے تھوڑے عرصے بعد ہی خاکی پینٹ اور سفید شرٹ میں تبدیل ہوگیا تھا۔
ویسے تو میرا اس اسکول کے سامنے سے کافی بار گزر ہوا ہے۔ لیکن کبھی دل میں خیال نہیں آیا کہ اس کو غور سے دیکھوں یہ سوچوں کہ یہ میرا پہلا اسکول تھا۔
لیکن آج چونکہ معاملہ ہی الگ تھا آج میں نے اس کو غور سے دیکھا اس کی حالت دیکھ کر مجھے افسوس بھی ہوا میرے زمانے میں یہ کافی بہتر حالت میں تھا۔
میں کچھ دیر اس اسکول کے سامنے رکا اور کچھ سوچ کر جیب سے موبائل نکالا اور اس کی تصاویر لیں۔
اور پھر وہیں سے واپس اپنے گھر کی جانب پیش قدمی شروع کردی۔
یہ اس اسکول کا مین گیٹ

یہ اس اسکول کا نام اور حالت

اسکول کی عمارت کا ایک اور منظر

