ایشیا کپ فائنل جس کے لیے کراچی کے مختلف علاقوں سے دس بسیں نیشنل اسٹیڈیم تک چلائی گئیں۔ اس کے علاوہ دس ہزار ٹکٹ عوام میں مفت تقسیم کیے گئے۔ یہ خبریں مختلف نیوز چینلز نے بھی نشر کیں۔
یہ سب کیوں کیا گیا؟
صرف اس لیے کہ کراچی کی عوام میچ دیکھنے کے لیے نیشنل اسٹیڈیم کا رخ کرے۔
اب یہ میری بدبختی کہیں کہ میں نے بھی کچھ جاننے والوں کے ذریعے تین ٹکٹ فائنل کے حاصل کیے تھے۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ پاکستان تو فائنل میں ہے ہی نہیں تو جانے کا کیا فائدہ!
لیکن پھر سوچا کہ چلو تھوڑی تفریح رہے گی۔ میرا اس سے پہلے صرف ایک مرتبہ نیشنل اسٹیڈیم جانا ہوا تھا۔ اور وہ موقع میرے لیے خاصا خوشگوار تھا۔ کیونکہ میرا پہلے پویلین میں جانا ہوا تھا۔ جہاں میری پاکستان کے کئی اسٹارز سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔
اس مرتبہ معاملہ چونکہ انٹرنیشنل سطح کا تھا اس لیے اس مرتبہ میری رسائی پویلین تک تو نہیں ہوسکی لیکن تین ٹکٹ وقار حسن انکلوژر کے مجھے مل گئےِِ۔ میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ یہ طے کیا کہ چونکہ میچ پاکستان کا نہیں ہے اس لیے مغرب کے بعد چلیں گے۔
جب تک دوسری اننگز شروع ہوچکی ہوگی۔
جانے کا مقصد صرف تفریح تھا۔ مگر مجھ غریب کو کیا معلوم تھا کہ یہ تفریح کیسے کیسے رنگ دکھائےگی۔
پروگرام کے مطابق میں اور میرے 2 دوست ایک ہی بائیک پر 8:30 بجے کے قریب اسٹیڈیم کے لیے روانہ ہوگئے۔
اسٹیڈیم تک کا سفر تو سکون سے طے ہوا۔ وقار حسن انکلوژر کا راستہ گیٹ نمبر 10 سے تھا۔ بس بائیک کا گیٹ کے سامنے رکنا تھا۔ کہ فوراً ہی کچھ پولیس والے ہماری جانب یوں بڑھے جیسے ہم خودکش جیکٹ پہنے ہوئے ہوں۔
یہاں بائیک کیوں روکی ہے؟ ایک نے جارحانہ انداز میں پوچھا۔
پھر کہاں روکیں اور کہاں پارک کریں جواب میں اس نے روڈ پار سامنے کی طرف اشارہ کیا۔ میرا ایک دوست بائیک کو روڈ کے دوسری جانب لے گیا اور میں دوسرے کے ساتھ وہیں رک کر اس کا انتظار کرنے لگا۔
لیکن ان پولیس والوں کو ہمارے وہاں کھڑے ہونے پر بھی اعتراض تھا۔ ان کے ساتھ کافی مغز ماری کرنی پڑی جب ان کو ٹکٹ بھی دکھائے کہ لو دیکھو ٹکٹ لے کر آئیں ہیں ایسے ہی منہ اٹھا کر نہیں چلے آئے۔ تو انھوں نے ہمیں ایک جانب کھڑا کردیا۔
کافی دیر بعد میرا دوست بائیک پارک کرکے واپس آیا معلوم ہوا کہ کافی دور لے جا کر پارک کرنی پڑی ہے۔
میں نے کہا چلو جو ہوا سو ہوا اب اندر چلتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک اور آفت منتظر تھی۔ وہ یہ کہ میرے پاس رشین ماڈل چھوٹی مگر طاقتور لینس ک دوبین ہے جو میں جاتے وقت ساتھ لے گیا تھا۔ تاکہ اس کی مدد سے اچھے طریقے سے میچ دیکھا دیکھا جائے گا۔
لیکن گیٹ پر کھڑے پولیس والوں کی نظر جب اس پر پڑی تو انھوں نے یہ ارشاد فرمادیا کہ دوبین لے کر اندر نہیں جایا جاسکتا۔
کیوں کیا میں اس سے کسی کو گولی ماردوں گا یا یہ اندر جاکر بم بن جائے گی میں نے بگڑے ہوئے لہجے میں کہا۔ لیکن ان کو تو نہ بگڑے ہوئے لہجے کی پرواہ تھی نہ میٹھے کی انھوں نے کسی بھی صورت اس کو اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی۔
اب اسٹیڈیم سے واپس حسن اسکوائر کی جانب پیش قدمی کرنا پڑی۔ تھوڑے آگے ایک سپر اسٹور تھا جہاں باہر ایک صحت مند سے صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔
ان کو جاکر درخواست کی کہ اگر وہ اس دوربین کو کچھ وقت کے لیے اپنے پاس رکھ لیں تو مہربانی ہوگی۔ انھوں نے ہمیں ایسے دیکھا جیسے ہم نے ان کسی چیز کا چندہ مانگ لیا ہو۔ اس سے پہلے کہ ان کے منہ سے انکار کا اظہار ہوتا۔ میں نے یہ کہہ دیا کہ میں آپ کو کوئی امانت کے طور پر نہیں دے رہا اگر اس کے ساتھ کچھ ہوتا بھی ہے تو میں آپ کو قصور وار نہیں ٹھہراؤں گا۔ اس بات پر انھوں نے دوبین رکھ لی اور ہم نے پھر اسٹیڈیم کی جانب پیش قدمی کی۔
ہر قدم پر ایک عدر پولیس والے سے سامنا ہوتا اور وہ ہمیں ایسی نظروں سے دیکھتا جیسے ہم تماشائی نہیں بلکہ دہشت گرد ہوں۔
خیر پھر گیٹ نمبر 10 تک پہنچے تلاشی دی اور گیٹ سے اندر داخل ہوئے۔ سوچا چلو اب تو جان چھوٹی اب سکون سے میچ دیکھیں گے۔
لیکن کیا معلوم تھا کہ ابھی تو آگے امتحاں اور بھی ہیں۔
پائپوں کے بنائے گئے پتلے سے راستے میں داخل ہونے سے پہلے ایک بار پھر تلاشی دینی پڑی 2 جگہ ٹکٹ چیک کرانے پڑے پھر کہیں جاکر سیڑھیوں تک پہنچ سکے۔ یہاں پر بنے الٹے یو نما چیکنگ دروازے سے پہلے میرا ایک دوست گزرا تو بزر بج گیا۔ اس کو سائیڈ پر کردیا گیا۔ اور جیبوں کی بابت پوچھا گیا۔ اس نے جیب سے اپنی کی چین نکال کر پولیس والے کے ہاتھ پر رکھی اور پھر دروازے سے گزرا اس مرتبہ وہ خاموش رہا۔ اب میری باری تھی میرے گزرنے پر وہ پھر بول پڑا۔ جواب میں میں نے بھی اپنی کی چین نکال کر پولیس والے کے ہاتھ پر رکھی۔ اور سکون سے پھر دروازے سے گزرا لیکن وہ کمبخت پھر بول پڑا۔ اب تو میں نے جیبوں سے سب کچھ نکال دیا اور پھر اس کے نیچے سے گزرا لیکن اب اس کو کیا کہوں کہ وہ پھر بول پڑا۔ اب تو سممجھ میں نہیں آیا کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ لیکن وہاں موجود پولیس والوں کو میری سوچ سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے مجھے پھر سائیڈ پر کھڑا کردیا۔ اب جب میں نے اپنے پورے جسم پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ جو بیلٹ میں نے پینٹ میں ڈال رکھا ہے اس میں بھی وافر مقدار میں اسٹیل موجود ہے۔ آخر کار بیلٹ بھی کھول کر اسے تھمایا اور پھر دروازے میں سے گزرا اس دفعہ وہ بدبخت خاموش رہا۔ میرے پیچھے دوسرے دوست نے اسے کراس کیا اس کے پاس شاید کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو اسے بولنے پر مجبور کرتی۔
اسطرح پھر کہیں جاکر ہمیں انکلوژر میں داخلہ نصیب ہوا۔ میرے پاس جو ٹکٹ تھے ان میں ہر ایک پر قیمت 800 روپے لکھی تھی۔ اس لیے میرا خیال تھا کہ یہ ضرور طریقے کا انکلوژر ہوگا۔ لیکن یہاں کی حالت دیکھ کر مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ پہلے تو یہ معلوم چلا کہ جن سیٹوں کے نمبر ٹکٹوں پر درج ہیں ان کو بھول کر جہاں بھی جگہ ملے وہاں بیٹھ جائیں۔
وہاں سیٹیں تو بہت خالی تھیں۔ ہر خالی سیٹ مٹی سے پر تھی لگتا تھا کہ مٹھیاں بھر بھر کر ان پر مٹی ڈالی گئی ہے۔ کچھ سیٹیں ٹوٹی پھوٹی تھیں۔
میرے کو تو وہ کہیں سے بھی انٹرنیشنل لیول کا اسٹیڈیم نہیں لگ رہا تھا۔
لیکن مرتا کیا نہ کرتا والے محاورے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو تکلیف دکر کر سیٹوں پر سے مٹی کو صاف کیا اور بیٹھ گئے۔
جیسے تیسے میچ دیکھا۔
جب دھونی آؤٹ ہوا تو میں نے کہا کہ اب میچ میں رکھا ہی کیا ہے۔ اب چلنا چاہیے۔
انکلوژر سے نکل کر خارجی دروازے تک جانا ہی ہوا تھا کہ اچانک وہ دروازہ بند کردیا تھا۔ اور باہر جانے والوں کو روک دیا گیا۔ ساتھ میں سڑک پر ٹریفک بھی روگ دیا گیا تھا۔ پتہ چلا کہ مشرف صاحب کی آمد ہورہی ہے۔
10 منٹ اس چکر میں ضائع ہوئے۔ پھر باہر نکلنا نصیب ہوا۔ باہر نکل کر میرے دوست نے کہا کہ وہ بائیک لے کر آرہا ہے جب تک ہم لوگ اپنی دوربین اٹھا لیں اور روڈ کراس کرلیں۔
جب ہم اس سپر اسٹور پر پہنچے اور اپنی دوبین کی واپسی کا مطالبہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ انھوں نے وہ اپنے گارڈ کے پاس رکھوائی تھی اور وہ ابھی نماز کے لیے گیا ہوا ہے اس لیے ہم لوگ تھوڑی دیر انتظار کرلیں۔
میں نے اپنے دوست سے کہا کہ میں دوسرے دوست کے پاس جارہا ہوں چونکہ گیارہ بج رہے ہیں اس لیے وہ بس نماز پڑھ کر آہی رہا ہوگا۔
تم دوبین لے کر روڈ پار آجانا جب تک میں اس کے پاس رک جاؤں گا۔
روڈ پر پہنچ پر میں نے ایک روڈ ہی کراس کیا تھا۔ کہ وہاں بیچ فٹ پاتھ پر موجود پولیس والوں نے مجھے واپس دھکے دینے شروع کردیے۔
یہ موقع ایسا تھا کہ کوئی بھی شریف انسان اس کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔
میں ان کو کہہ رہا تھا کہ میرا دوست وہ کھڑا ہوا میں نے بس جاکر بائیک پر بیٹھنا ہے اور چلے جانا ہے۔
لیکن شاید ان کو بہرا کرکے وہاں کھڑا کیا گیا تھا۔
انھوں نے مجھے دھکے دے دے کر دوبارہ روڈ کی دوسری جانب دھکیل دیا۔
یہ وہ لحمہ تھا کہ میرا غصہ اور نفرت پوری طرح جاگ چکی تھی۔ اور بس نہیں چل رہا تھا کہ میں کیا کردوں۔
کہ ایک عام انسان کے ساتھ یہ سلوک کیا جارہا ہے۔
کیا میچ دیکھنے آنا ایسا ہی بڑا جرم ہے کہ انسان کے ساتھ یہ سب کچھ کیا جائے۔
میں اس روڈ پر چلتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔ دوسری طرف میرا دوست بائیک لے کر چلتا رہا۔ مشرق سینٹر سے بھی آگے آکر میں نے روڈ کراس کیا اور اپنے دوست کے پاس پہنچ گیا۔
وہاں سے میں نے اپنے دوسرے دوست کو فون کرکے بتایا کہ وہ دوربین لے کر سوئی گیس والی بلڈنگ کے سامنے آکر روڈ کراس کرے۔
ہم وہیں کھڑے ہیں۔
میرا بائیک والا دوست مجھے بتارہا تھا کہ پولیس والے اس کو وہاں بائیک بھی نہیں روکنے دے رہے تھے۔ اور پوچھنے پر بول رہے تھے کہ وی آئی پی انتظام ہے اس لیے ایسا ہے۔
اب اس وی آئی کو میں کیا کہتا بس اپنے دوست کا انتظار کیا جیسے ہی وہ دوبین لے کر وہاں پہنچا ہم نے واپسی کا سفر اخیتار کیا۔
اور عسکری پارک کے پاس پہنچ کر آئسکریم کھا کر اپنا دماغ ٹھنڈا کیا۔
ایک اور بات اس عرصے کے دوران مجھے ایک بھی وہ بس نہیں دکھائی دی جو کراچی کے مختلف علاقوں سے نیشنل اسٹیڈیم تک چلائی گئیں تھیں۔
خیر میں صرف یہ سوچ کر اور پرسکون ہوگیا کہ چلو یہ لوگ بھی اپنے فرائص انجام دے رہے تھے اور ان پر اوپر سے کافی دباؤ تھا۔
لیکن ظاہر ہے ہر شخص میری طرح یہ سوچ کر نہیں بیٹھ گیا ہوگا۔
اور میں نے تو یہ سوچنے کے بعد بھی آئندہ کبھی اسطرح کوئی بھی میچ دیکھنے نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
تو ظاہر ہے یہ سلوک اور جتنوں کے ساتھ بھی ہوا ہوگا۔ وہ بھی پھر کبھی اس ذلت کے لیے اسٹیڈیم نہ جانہ ہی بہتر جانیں گے۔
July 7th, 2008 at 3:28 pm
آہ اس غیرتمند لڑکے کی برداشت کا قصہ :razz:
اچھا ہی ہوا کہ میں نے ایسی کسی بے وقوفی کا نہیں سوچا. اللہ معاف کرے. اب تم آئی.سی.سی چیمپئنز ٹرافی دیکھنے جاؤ گے کہ نہیں؟ :win:
July 7th, 2008 at 3:51 pm
ایسے حالات میں تو اگر ورلڈ کپ کا فائنل بھی ہوا تو کبھی نہ جاؤں
July 8th, 2008 at 11:59 pm
آپ کو ٹیگ کی سزا ملی ہے اب آپ بھی جواب دیجیئے ۔
http://shab.urdutech.net/2008/07/08/tag-2/
July 9th, 2008 at 6:13 pm
یہ تو دیکھنا پڑے گا کہ یہ کیسی سزا ہے۔
کچھ اس کے متعلق معلومات تو حاصل ہوں :smile:
August 4th, 2008 at 3:41 pm
ارے کیا یاد دلا دیا تم نے!! 1996ء میں یہ غلطی ہم سے بھی ہو گئی تھی پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ دیکھنے نیشنل اسٹیڈیم گئے اور جو ہوا، وہ ناقابل بیان ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اس کے بعد سے آج تک نیشنل اسٹیڈیم کو صرف دور ہی سے دیکھا کیے ہیں۔
August 4th, 2008 at 5:49 pm
عوام کے یہ سلوک کرکے بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ میچ دیکھنے اسٹیڈیم آئے۔
میں تو سوچ رہا ہوں کہ یہ جو چیمپئن ٹرافی جو پاکستان میں کرانے کے لیے سر ڈھڑ کی بازی لگائی ہے فضول ہی لگائی ہے۔